The news is by your side.

Advertisement

ایل این جی اسکینڈل : شاہدخاقان عباسی کے خلاف دائرضمنی ریفرنس میں اہم انکشافات

اسلام آباد: ایل این جی اسکینڈل میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کےخلاف دائرضمنی ریفرنس میں اہم انکشافات سامنے  آئے ، جس کے مطابق شاہدخاقان یو اے ای میں قائم ٹرینٹی کمپنی سے پیسے وصول کرتے رہے، یو اے ای حکومت نے رقم منتقلی کے ثبوت نیب کو فراہم کردیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایل این جی اسکینڈل میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان کےخلاف دائرضمنی ریفرنس میں نئےانکشافات ہوئے ، ریفرنس میں بتایا گیا ہے کہ شاہدخاقان یواےای میں قائم ٹرینٹی کمپنی سے پیسےوصول کرتے رہے، کمپنی بھارت میں قائم سدھارت پرائیویٹ لمیٹڈ کےساتھ کام کرتی ہے۔

ریفرنس کے مطابق یواےای سے 5لاکھ38ہزار895ڈالرشاہدخاقان کےاکاؤنٹ منتقل ہوئے، یہ رقم مشرق بینک دبئی سے3اقساط میں منتقل ہوئی، یو اے ای حکومت نے رقم منتقلی کے ثبوت نیب کو فراہم کردیے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک پاکستان نے بھی رقوم منتقلی کی تصدیق کردی۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ رقوم کی منتقلی کس مدمیں ہوئی، شاہدخاقان وضاحت دینےمیں ناکام رہے، 637 ملین سےزائدکی رقم شاہدخاقان اور بیٹےعبداللہ کےاکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔

گذشتہ روز قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی کیس میں ضمنی ریفرنس دوبارہ دائر کیا تھا، رجسٹرار احتساب عدالت اسلام آباد نے دستاویزات نامکمل ہونے پر ضمنی ریفرنس پر اعتراضات عائد کر کے واپس کیا تھا۔

ایل این جی کیس میں قومی احتساب بیورو ( نیب) نے سابق وزیراعظم شاہدخاقان کیخلاف ضمنی ریفرنس میں کہا تھا کہ غیر قانونی معاہدوں سے 21ارب کا نقصان ہو چکاہے ، من پسند کمپنیوں کوغیر قانونی ٹھیکوں سے 14ارب کافائدہ پہنچایا گیا۔

ضمنی ریفرنس کے مطابق 4سال تک دوسرا ٹرمینل فعال نہ بنایا ،ساڑھے 7ارب کا نقصان ہوا، معاہدے سےآئندہ 10سال قومی خزانے کومزید 47ارب کا نقصان پہنچے گا۔

ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ 29 دسمبر 2017کوایم ڈی ائیر بلیو کی جانب سے 736ملین منتقل ہوئے، 736 ملین شاہد خاقان کو ملنے والی تنخواہ کے علاوہ تھے ، ایس ای سی پی نے736میں سے 560ملین کی ٹرانزیکشن کوغیر قانونی قرار دیا۔

ضمنی ریفرنس کے مطابق شاہد خاقان نے 560ملین کی رقم واپس اپنے بیٹے کےاکاؤنٹ میں منتقل کی، عبداللہ خاقان 2013سے 2019کے درمیان حاصل رقوم پر وضاحت نہ دے سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں