The news is by your side.

Advertisement

کے الیکٹرک کا راج، صنعتی علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ جاری

کراچی: کے الیکٹرک نے رہائشی اور تجارتی علاقوں کے ساتھ صنعتی علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کی، کمپنی نے صنعتی علاقوں کو بلاتعطل بجلی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی کے صنعتی علاقوں میں 8 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کے میسجز بھیجے گئے ہیں، بجلی کی عدم فراہمی کے باعث صنعتی علاقوں میں نائٹ شفٹ نا ممکن ہو گئی۔

گورنر سندھ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے صنعت کاروں سے بلا تعطل بجلی فراہمی کا وعدہ کیا تھا، تاہم کے الیکٹرک نہ اپنے وعدوں کا پاس رکھتی ہے نہ سرکار کے، اضافی گیس، فرنس آئل اور 800 میگا واٹ بجلی ملنے کے باوجود بجلی کا بحران جوں کا توں ہے۔

ابراج گروپ نےکیسے پی پی کی فنڈنگ کی سب کوپتہ ہے، فواد چوہدری

نیپرا کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ناک کے نیچے شہر کے رہائشی، تجارتی، صنعتی اور زرعی تمام صارفین کو یکساں لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔

ادھر رات کو بن قاسم پاور پلانٹ وَن کا ایک اور یونٹ بند کر دیا گیا ہے، جس کے بند ہونے سے سسٹم سے 130 میگا واٹ کی بجلی نکل گئی، بن قاسم کے 4 یونٹ پہلے ہی بند ہیں، جن میں سے 2 کوئلے پر منتقلی اور 2 مرمت کے نام پر بند کیے گئے ہیں، کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ یونٹ تیکنیکی خرابی کی وجہ سے بند ہوا۔

130 میگا واٹ کی مزید قلت کے نام پر مستثنیٰ علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ بڑھا کر 3 سے 5 گھنٹے کر دی گئی ہے، کے الیکٹرک پہلے ہی صرف گیس کے پلانٹس سے بجلی پیدا کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

لوڈ شیڈنگ والے علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے بجلی بند کی جا رہی ہے، صنعتی علاقوں میں بھی مقامی فالٹس کے نام پر بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے، جناح اسپتال کی بجلی بھی تاحال مکمل بحال نہیں کی جا سکی، جناح اسپتال کے گرڈ میں جمعے سے خرابی ہے، اسپتال میں بجلی کی آنکھ مچولی سے مریضوں اور ڈاکٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں