The news is by your side.

Advertisement

دس سالہ قرضوں اور سرمایہ کاری کا فرانزک آڈٹ، 12 رکنی تحقیقاتی کمیشن تشکیل، نوٹی فکیشن جاری

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 10 سالہ قرضوں اور سرمایہ کاری کی تحقیقات کے لیے 12 رکنی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے دیا جس میں نیب، آئی بی، ایف آئی اے کے افسران بھی شامل ہیں۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز عبدالقادر کے مطابق وفاقی حکومت نے 10 سالہ قرضوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا، جس کے مطابق تحقیقاتی کمیشن 12 ارکان پر مشتمل ہے جس کی سربراہی حسین اصغر کریں گے جبکہ نیب، ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایف بی آر ، آڈیٹرجنرل، ایم آئی اور ایس ای سی پی نمائندے بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

اعلیٰ سطح پر تشکیل دیا جانے والا کمیشن کو کسی بھی شخصیت سے معاونت حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کو 6 ماہ میں حتمی رپورٹ پیش کرنے کے احکامات بھی دیے گئے تاہم نوٹی فکیشن میں کمیشن کے اراکین کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کریں۔

مزید پڑھیں: قرضوں کی تحقیقات، حسین اصغر کو اعلیٰ سطحیٰ کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ

نوٹی فکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دیا جانے والے تحقیقاتی کمیشن کی مدت میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں، کمیشن 2008 سے 2018 تک ترقیاتی منصوبوں اورجاری بجٹ کی تحقیقات کرےگا، دوران تفتیش تفتیشی افسران اس بات کو بھی دیکھیں گے کہ جس کام کے لیے بیرونی قرضہ حاصل کیا گیا اُن ترقیاتی منصوبوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی، عوامی منصوبوں کے لیے دیئےگئے ٹھیکوں میں مبینہ رشوت کی بھی تحقیقات ہوں گی۔

کمیشن سرکاری فنڈزکو ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کرنے کی تحقیقات بھی کرے گا جبکہ 2005کے ایکٹ میں ترامیم  آرٹیکل166 میں ترمیم کی تحقیقات ہوں گی، تحقیقاتی کمیٹی 10 سالہ سرمایہ کاری اور اخراجات کا فرانزک آڈٹ بھی کرے گی جس کے لیے ملکی و غیرملکی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 35 کھرب روپے تک پہنچ گیا

نوٹی فکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمیشن کو خوردبردکےشواہدملےتوذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور انہیں تحقیقات کے لیے متعلقہ ادارے کے سپرد بھی کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں