site
stats
عالمی خبریں

لندن، چائلڈ پورنوگرافی کے بین الااقوامی مافیا کا کارندہ گرفتار

ملزم کا بچوں کی ہزاروں غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز بناکر فروخت کرنے کا اعتراف

لندن : محض دس سال کی عمر میں دو برس کے بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا نوجوانی تک پہنچتے پہنچتے ’’ چائلڈ پورنو گرافی ‘‘ کا اہم کارندہ بن گیا۔

تفصیلات کے مطابق اس بات کا انکشاف بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں سامنے آیا جہاں سینتیس سالہ شخص نے ہزاروں کی تعداد میں معصوم بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیو بنانے کا اعتراف کیا۔

دوران سماعت یہ انکشاف بھی ہوا کہ مذکورہ شخص 1993 میں پہلی مرتبہ ایک بچے کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور اس وقت سفاک ملزم کی عمر محض دس سال تھی جس پر اسے 8 سال قید کی سزا ہوئی تاہم سزا پوری ہونے کے بعد 2001 میں وہ نئی شناخت سے زندگی بسر کرنے لگا اور چائلڈ پورنوگرافی سے وابستہ مافیا کا حصہ بن گیا۔

لیور پول کا رہائشی 37 سالہ جان وینیبل کو مشکوک سرگرمیوں کے سبب تیسری بعد حراست میں لیا گیا اور دوران تفتیش اُس نے بچوں سے زیادتی کے مینول کے مطابق 392 اے کٹیگری تصاویر، بی کٹیگری کی 148 اور 630 تصاویر سی کٹیگری تصاویر رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔

خیال رہے اس سے قبل مذکورہ ملزم پہلی بار 8 سال قید کی سزا پوری کرنے کے بعد دوبارہ 2010 میں چائلڈ پورنوگرافی کے مکروہ دھندے میں ملوث ہونے پر گرفتار ہوا تھا اور دو سال قید کی سزا بھی بھگتی تھی تاہم رہائی کے بعد وہ دوبارہ اسی دھندے سے وابستہ ہوا اور اب تیسری بار گرفتار ہوا۔

یاد رہے 1993 میں جب جان وینیبل نے پہلی مرتبہ کسی بچے کو اغواء کر کے زیادتی کا نشانہ بنا کر بچے کی تشدد زدہ لاش کچرہ کنڈی میں پھینکی تھی اس وقت اُس کا ہم عمر دوست بھی اس ظلم میں شریک تھا اور بعد ازاں یہ دونوں دوست چائلڈ پورنوگرافی کے بین الااقوامی گروہ کا حصہ بن گئے تھے۔

خیال رہے پنجاب کے شہر قصور میں بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بنانے والے گروہ کے انکشاف اور معصوم بچیوں سے زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم عمران علی کی گرفتاری کے بعد سے کچھ حلقوں کی جانب سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان واقعات کا چائلد پورنوگرافی کے بین الااقوامی گروہ سے ہو۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top