The news is by your side.

Advertisement

لانگ کووڈ کا امکان بڑھانے والے عناصر

کرونا وائرس سے صحت یاب ہوجانے کے بعد بھی بعض افراد کو لانگ کووڈ کا سامنا ہوسکتا ہے، اب اس حوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔

سوئیڈش میڈیکل سینٹر، انسٹی ٹیوٹ فار سسٹمز بائیولوجی اور یونیورسٹی آف واشنگٹن اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 4 عناصر سے کووڈ کے مریضوں میں لانگ کووڈ کا امکان بڑھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے خیال میں یہ ان اولین اہم کوششوں میں سے ایک ہے جس میں لانگ کووڈ کے پیچیدہ عمل کو سامنے لایا گیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ لانگ کووڈ کے ممکنہ 4 عناصر میں سے ایک بیماری کے ابتدائی مراحل میں مریض کے خون میں کرونا وائرس آر این اے کی سطح ہے، جو بیماری کی شدت کی بھی ممکنہ عکاسی کرتی ہے۔

اسی طرح دوسرا عنصر آٹو اینٹی باڈیز کی موجودگی ہے، یعنی ایسی اینٹی باڈیز جو جسم کے صحت مند ٹشوز پر حملہ آور ہوجاتی ہیں۔

تیسرا عنصر ایپسٹین بر وائرس کا متحرک ہونا ہے جو نوجوانی میں غیر متحرک ہوجاتا ہے جبکہ آخری عنصر ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار ہونا ہے۔

اس تحقیق کا آغاز مارچ 2020 میں ہوا تھا اور اس میں 18 سے 29 سال کی عمر کے 200 سے زیادہ ایسے مریضوں کا جائزہ لیا گیا جو کووڈ کے باعث اسپتالوں میں 2 سے 3 ماہ تک زیرعلاج رہے۔

ان مریضوں پر تحقیق لانگ کووڈ کی علامات جیسے تھکاوٹ اور دماغی دھند سے قبل شروع ہوگی تھی، جب لانگ کووڈ کی علامات کو رپورٹ کیا گیا تو ماہرین نے ان مریضوں کا گہرائی میں جاکر جائزہ لیا اور مختلف مراحل میں مختلف حیاتیاتی فیچرز کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق کے مطابق 37 فیصد مریض بیماری کو شکست دینے کے 2 سے 3 ماہ بعد بھی لانگ کووڈ کی 3 یا اس سے زیادہ علامات کو رپورٹ کرتے ہیں، 24 فیصد ایک یا 2 علامات جبکہ 39 فیصد نے کسی بھی علامت کا سامنا ہونے کو رپورٹ کیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد کو لانگ کووڈ کا سامنا تھا، ان میں سے 97 فیصد کو 3 یا 4 عناصر کو دریافت کیا گیا تو ہمارے خیال میں نتائج اس حوالے سے اہم ہیں۔

تحقیق کے مطابق سب سے واضح عنصر آٹو اینٹی باڈیز ہوتا ہے جو لانگ کووڈ کے دو تہائی کیسز میں دریافت ہوا، باقی تینوں عناصر میں کوئی ایک ایک تہائی کیسز میں دریافت ہوا۔

چونکہ تحقیق وبا کے ابتدائی ایام میں شروع ہوئی تھی تو دیگر عناصر جیسے ویکسین اور ڈیلٹا یا اومیکرون سے بریک تھرو انفیکشنز کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں