The news is by your side.

Advertisement

خواتین میں لانگ کووڈ زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے

ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والی خواتین کی جسمانی کارکردگی بیماری سے پہلے کی طرح بحال نہ ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کرونا وائرس کو شکست دینے کے بعد طویل المعیاد بنیادوں پر علامات کا سامنا کرنے والی خواتین ممکنہ طور پر ماضی کی طرح ورزش نہیں کرسکیں گی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ خواتین نے کووڈ 19 کو شکست دینے کے بعد دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کو رپورٹ کیا، جس سے جسمانی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والی خواتین میں دل اور پھیپھڑوں کے مسائل کی علامات کا تسلسل سانس لینے میں دشواری یا جوڑوں اور مسلز میں تکلیف کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مردوں میں کووڈ 19 کی سنگین پیچیدگیوں اور موت کی شرح زیادہ ہے مگر یہ پہلی بار ہے جب ایسے شواہد دریافت ہوئے جن کے مطابق بیماری کے بعد خواتین کو زیادہ جدوجہد کا سامنا ہوتا ہے۔

سابقہ تحقیقی رپورٹس میں بھی بتایا گیا تھا کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد ہر 3 میں سے ایک خاتون کو طویل المعیاد علامات کے علاج کے لیے ڈاکٹروں سے رجوع کرنا پڑا۔

اس نئی تحقیق میں لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والی خواتین کو 6 منٹ تک چہل قدمی کرنے کا کہا گیا اور پھر دیکھا گیا کہ ایسا کرنے کے بعد ان کی دل کی دھڑکن کب تک معمول پر آتی ہے۔

اس ٹیسٹ سے قبل ماہرین نے تمام رضا کاروں کی آرام کے وقت دھڑکن کی رفتار، بلڈ پریشر، خون میں آکسیجن کی مقدار اور سانس لینے میں دشواری کی جانچ پڑتال کم از کم 10 منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد کی تھی۔

ٹیسٹ کے دوران خواتین کو ہر ممکن تیزرفتاری سے چہل قدمی کی ہدایت کی گئی تھی اور ٹیسٹ کے فوری بعد دھڑکن کی رفتار، خون میں آکسیجن کی مقدار، سانس لینے میں دشواری اور دیگر عناصر کا ایک بار پھر جائزہ لیا گیا۔

پھیپھڑوں کی کسی بڑی بیماری، امراض قلب کی تاریخ یا تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کو اس تجربے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے بحالی نو پروگرام کی ضرورت ہے، جس میں ان کے پھیپھڑوں کی کارکردگی کو دوبارہ بحال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ بالخصوص درمیانی عمر کی مریض خواتین کے لیے یہ بہت ضروری ہے کیونکہ عمر بڑھنے سے خواتین میں پھیپھڑوں کی بے قاعدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عمر بڑھنے سے خواتین میں جسمانی معذوری کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں