site
stats
پاکستان

پولیس ’پسند کی شادی کرنے والوں‘ کی محافظ بن گئی

love marriage

جتوئی : نواحی علاقہ ڈمر والہ میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں‘ پولیس نے جوڑے کو اپنی نگرانی میں عدالت تک پہنچایا۔

تفصیلات کے مطابق جتوئی کے نواحی علاقہ ڈمر والا کے رہائشی محمد صفدر نے سعدیہ سے پسند کی شادی کی تو لڑکی کے ورثا ء نے دونوں کو مارنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی ساتھ تھانہ شہر سلطان میں محمد صفدر پر اغواء کا مقدمہ بھی درج کرا دیا۔

کیا اسلام میں پسند کی شادی کی اجازت ہے؟*

 بعد ازاں نو بیاہتا جوڑے نے تھانہ شہر سلطان کو آگاہ کیا کہ انہوں نے کورٹ میرج کی ہے جس پر لڑکی سعدیہ نے تھانہ شہر سلطان میں پیش ہوکر اپنا بیان قلم بند کرایا۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر شہر سلطان پولیس نے اپنی نگرانی میں جوڑے کو عدالت میں پیش کیا اور عدالت کے روبرو دونوں میاں بیوی کے بیان قلمبند کرائے ۔ اسی اثناء میں لڑکی کے ورثاء بھی پہنچ گئے اور جوڑے کو قتل کی دھمکیاں دیں ۔شہر سلطان پولیس کی جانب سے شادی شدہ جوڑے کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ۔

پسند کی شادی، خواہش ظاہر کرنے پراہل خانہ نے لڑکی کو زندہ جلادیا

یاد رہے کہ رواں سال اپریل کے مہینے میں کزن کے ساتھ شادی کا اظہار کرنے پر اہل خانہ نے ایم اے کی طلبہ ماریہ کو زندہ جلادیا تھا، لڑکی  آگ میں جھلس کردم توڑ گئی تھی ، پولیس نے لڑکی کے نانا، والدہ، ماموں اور بھائی کوحراست میں لے کر کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top