The news is by your side.

Advertisement

گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے لیے رہائش فراہم کرنے کا اعلان

جزیرہ بلقان کے ملک البانیا میں گھریلو تشدد کا شکار خواتین کو کم قیمت رہائش فراہم کرنے کا قانون منظور کرلیا گیا۔

البانیا میں اقوام متحدہ خواتین (یو این ویمن) کے اشتراک سے ملک بھر میں کام کرنے والی 48 سول سوسائٹی کی تنظیمیں اس وقت ان خواتین کو کم قیمت رہائش فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہیں جو رہائش نہ ہونے کے سبب گھریلو تشدد کا شکار ہونے پر مجبور ہیں۔

یہ خواتین اپنے شوہروں یا ساتھیوں کی جانب سے مستقل گھریلو تشدد کا شکار ہورہی ہیں اور اس رشتے سے اس لیے چھٹکارہ حاصل نہیں کرسکتیں کیونکہ ان کے پاس کوئی جائے رہائش نہیں۔

ایسی خواتین کو رہائش فراہم کرنے کا بل گزشتہ سال پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا جسے اب منظور ہونے کے بعد یو این ویمن کی معاونت بھی حاصل ہوگئی ہے۔

رضا کارانہ بنیادوں پر گزشتہ کئی برسوں سے بے سہارا خواتین کے لیے شیلٹر ہاؤس چلانے والی معروف سماجی کارکن ایڈلرا کا کہنا ہے کہ عموماً خواتین کے پاس ذاتی گھر نہیں ہوتے، اگر وہ ناپسندیدہ رشتے سے جان چھڑانا چاہیں تو طلاق کے بعد رہائش سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، بعد میں وہ معاشی طور پر اس قابل نہیں ہوتیں کہ گھر خرید سکیں یا کرائے کا گھر حاصل کرسکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ رہائش نہ ہونا ہی خواتین کا پرتشدد رشتوں میں بندھے رہنا ایک بڑا سبب ہے تاہم انہیں امید ہے کہ اب نیا قانون ایسی خواتین کے لیے آسانیاں پیدا کرسکے گا۔

شیلٹر ہاؤس میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ کچھ عرصے تک شیلٹر ہاؤس میں رہنے کے بعد انہیں مجبوراً الگ گھر حاصل کرنا پڑا، مہنگی رہائش کے سبب ان کی کمائی کا بڑا حصہ کرائے کی نذر ہوجاتا ہے۔ ’کرایہ ادا کرنے کے لیے مجھے بعض اوقات بھوکا بھی رہنا پڑتا ہے‘۔

انہیں امید ہے کہ اب حکومت کے اس اقدام کے بعد ان جیسی کئی خواتین کو باسہولت رہائش میسر آسکے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں