The news is by your side.

Advertisement

اٹلی میں کرونا وائرس کے بارے میں چونکا دینے والی تحقیق

روم: اٹلی میں کرونا وائرس کے حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ اپریل کے مقابلے میں مئی میں جو افراد کرونا وائرس کا شکار ہوئے، ان میں وائرس کا زور کم تھا۔

اٹلی میں چھوٹے پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق میں ماہرین نے دیکھا کہ اپریل میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد میں وائرس کی شدت زیادہ تھی، ماہرین نے اسے وائرل لوڈ کا نام دیا ہے جو ان کے مطابق مئی میں کم ہوگیا۔

اپنی تحقیق میں ماہرین اس بارے میں حتمی شواہد تو فراہم نہیں کرسکے تاہم انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس کی وجہ بظاہر سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا جانا اور سماجی فاصلوں کو یقینی بنانا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں اس پہلو پر غور نہیں کیا گیا کہ آیا وائرس کی جین میں کوئی تبدیلی ہوئی یا پھر مریضوں کے جسم میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی جس کی وجہ سے وائرس کم شدت سے حملہ آور ہوا۔

تحقیق کے لیے ماہرین نے اٹلی کے ایک اسپتال سے 200 کرونا وائرس کے مریضوں کے، ٹیسٹ کے لیے دیے گئے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں نصف مریض اپریل میں سامنے آئے جب وائرس کا زور اٹلی میں عروج پر تھا، جبکہ نصف مئی میں سامنے آئے جب اس کا زور ٹوٹ چکا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اپریل میں جو مریض آئے ان میں وائرل لوڈ زیادہ تھا، ان مریضوں میں ظاہر ہونے والی علامات بھی شدید تھیں جبکہ انہیں اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت بھی پیش آئی۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ 60 سال سے زائد عمر کے مریضوں میں وائرل لوڈ زیادہ تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ممکنہ وجوہات سماجی فاصلے رکھنا، گرم درجہ حرارت، فیس ماسک کا زیادہ استعمال، شہریوں کے بار بار ہاتھ دھونے کی عادت اور فضائی آلودگی میں کمی ہو سکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں