The news is by your side.

Advertisement

فضائی کمپنی نے ’خواتین و حضرات‘ کے الفاظ ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کر لیا؟

برلن: جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا نے ’خواتین و حضرات‘ کے الفاظ کا استعمال ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کےمطابق جرمنی کی قومی پرچم بردار ہوائی کمپنی لفتھانزا نے پرواز کے آغاز پر ’خواتین و حضرات خوش آمدید‘ کے الفاظ استعمال نہ کرنے کی پالیسی اپنا لی ہے، اب بہت جلد اس کی جگہ ’معزز مہمانوں‘ کے الفاظ کا استعمال شروع ہوگا۔

یہ نئی پالیسی لفتھانزا گروپ میں شامل تمام ہوائی کمپنیوں پر لاگو ہوگی، اس گروپ میں آسٹرین ایئر لائنز، سوئس ایئر لائنز اور یورو ونگز شامل ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جرمن کمپنی نے پالیسی میں یہ تبدیلی کیوں کی، ان نئے الفاظ پر لفتھانزا کی ترجمان آنیا شٹینگر کا کہنا ہے کہ یہ صرف الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ رویے کی تبدیلی ہے، اب لفتھانزا کا عملہ ہوائی جہاز پر سوار ہونے والے مسافروں کا استقبال بغیر کسی صنفی شناخت کے اور بغیر کسی تذکیر و تانیث کے کرے گا۔

انھوں نے بتایا کہ کمپنی کے عملے کو اس پالیسی کے حوالے سے رواں برس مئی میں مطلع کیا گیا تھا ،اور اس پر باضابطہ عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔

جرمنی کی سماجیات و اقتصادیات کی ماہر الیگزانڈرا شیلے نے اس فیصلے کو علامتی تبدیلی اور صنفی حساسیت کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا، اس اقدام سے ان افراد کو بھی راحت ملے گی جو خود کو مرد یا عورت کی صنفی تعریف کے زمرے میں لانا پسند نہیں کرتے۔

یورپی انسٹیٹیوٹ برائے صنفی مساوات نے جینڈر نیوٹرل الفاظ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے وہ الفاظ مراد ہیں جن میں مرد اور عورت کی بجائے سبھی انسانوں کو عمومی انداز میں مخاطب کیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں