The news is by your side.

Advertisement

ناقص تفتیش کے باعث لیاری گینگ وار کے سرغنہ کو “ریلیف” ملنے لگا

کراچی: ناقص تفتیش اور شواہد کی عدم دستیابی کے باعث لیاری گینگ وار کےسرغنہ عزیربلوچ کو ایک اور مقدمے میں بری کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سیشن عدالت نے عزیر بلوچ کی مقدمے سے بریت کی درخواست پر فیصلہ سنایا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ :استغاثہ ایک بار پھر شواہد دینے میں ناکام رہا ، شواہد کی عدم دستیابی پر عزیر بلوچ کی درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے۔

عزیر بلوچ پر لیاری کے علاقے کلری تھانے پر حملہ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، یہ مقدمہ سال دو ہزار بارہ میں درج ہوا تھا، پولیس کی جانب سے مقدمے میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے فائرنگ کرکے تھانے میں موجود عملے کو مارنے کی کوشش کی، پولیس کی جوابی فائرنگ پر ملزمان بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  عزیر بلوچ قتل کے دو مقدمات میں بری

کیس میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا تھا جبکہ کیس میں گرفتار دیگر ملزمان کو عدالت پہلے ہی بری کرچکے ہے۔

واضح رہے کہ عزیر بلوچ ناقص تفتیش کے باعث اب تک دس مقدمات میں بری ہوچکے ہیں ، لیاری گینگ وار کے سرغنہ پر مجموعی طور پر 61 مقدمات درج ہینم جن میں قتل کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں