The news is by your side.

Advertisement

کیا قدیم شہر ماچو پیچو کسی وبا کے پھیلنے سے ویران ہوا تھا؟

پیرو جنوبی امریکا کا وہ ملک ہے جسے ماچو پیچو کے کھنڈرات کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ اس ملک کا دارالحکومت لیما ہے اور یہاں کی زبان ہسپانوی ہے۔

اسی دارُالحکومت لیما سے سات گھنٹے کی دوری پر ناسکا شہر ہے جہاں ماچو پیچو میں زمین پر میلوں تک پھیلی ہوئی لمبی لکیروں اور اشکال کو سیّاح حیرت سے دیکھتے ہیں اور یہ لکیریں‌ دنیا کے لیے معما ہیں۔ انھیں‌ ناسکا لائنز بھی کہا جاتا ہے۔

یہ کھنڈرات “انکا کا شہر” کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں جو “ماچو پیچو انکا” سلطنت کے زمانہ عروج میں‌ بسایا گیا تھا۔ ماہرینِ آثار اور تاریخ نویسوں‌ کا خیال ہے کہ یہ شہر 1450 کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔

ماچو پیچو میں پتھر سے تعمیر کردہ 216 عمارتوں کے آثار آج کے دور کے انسانوں کے لیے حیرت اور استعجاب کا باعث ہیں‌، کیوں‌ کہ یہ بلند اور سطح سمندر سے 2430 میٹر کی اونچائی پر تعمیر کیا گیا ہے جو اس دور میں معماروں‌ کے لیے چیلنج رہا ہو گا۔

1911 میں دریافت ہونے والا ماچو پیچو دنیا کے مقبول ترین سیّاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ تاریخ کہتی ہے کہ یہ انکاؔ تہذیب کے عروج کا یادگار شہر ہے اور یہ 15 ویں اور 16 ویں صدی کا زمانہ تھا۔ ماہرینِ آثار کے مطابقں ماچو پیچو کی آبادی ایک ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل رہی ہوگی، جسے اس علاقے کے ہسپانوی حملہ آوروں‌ کی وجہ سے ویرانی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس بارے میں‌ مختلف خیال اور تصورات موجود ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی وبا کے پھیلنے کے بعد اچانک ہی اس بسے بسائے شہر کو اچانک یہاں‌ کے لوگ چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہوگئے تھے اور یہ شہر سو سال سے زیادہ عرصہ آباد نہیں‌ رہا۔

اس مقام پر ڈیڑھ سو سے زائد عمارات ہیں جب کہ متعدد حمام، مقابر، معبد کے ساتھ ایسی سیڑھیاں ہیں‌ جو مختلف مقامات کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ تین ہزار سے زائد یہ سیڑھیاں‌ اس کے طرزِ تعمیر کی خاص نشانی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ شہر اپنی انجینئرنگ کے ساتھ زراعت کے حوالے سے بھی بے مثال رہا ہوگا جس کا ثبوت یہاں کا نظامِ آب پاشی ہے جو ہر لحاظ سے شان دار ہے اور اس دور کے لوگوں‌ کی مہارت کا نمونہ ہے۔

ہر سال 12 لاکھ سے زائد سیاح ماچو پیچو کا رخ کرتے ہیں۔ 20007 میں اس شہر کو دنیا کے 7 نئے عجائباتِ عالم کی فہرست میں شامل کیا گیا جب کہ 1983 میں اسے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں