The news is by your side.

Advertisement

شالنی جسے بشیر احمد کی تلاش مقبوضہ کشمیر لے گئی

یہ کہانی آپ کو جموں و کشمیر کے ایک دور دراز گاؤں تک لے جائے گی۔

اس کی مصنف مادھوری وجے ہیں‌اور یہ انگریزی زبان میں‌ تحریر کردہ کہانی ہے۔ نوجوان ناول نگار کو ان کی تخلیق پر ادب کی دنیا کا نقد انعام 25 لاکھ روپے بھی دیا گیا ہے۔

یہ ناول مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال میں ایک بار پھر زیرِ بحث آرہا ہے۔

مادھوری وجے کا یہ ناول “دی فار فیلڈ” کے نام سے شایع ہوا تھا۔

اس کہانی کا اسلوب اور انداز ایسا ہے کہ قاری ہندوستانی فوج کے کشمیریوں پر مظالم اور بربریت کو گویا خود دیکھ سکتا ہے۔ آئیے اس ناول کے مرکزی کردار شالنی سے ملتے ہیں۔
شالنی زندگی کی تیس بہاریں دیکھ چکی ہے۔ اس کی پیدائش بنگلور کی ہے، لیکن اب وہ کشمیر جارہی ہے۔

بنگلور میں اس کی ماں نے ہمیشہ کے لیے اسے الوداع کہہ دیا۔ اس کی موت کے وقت شالنی چوبیس برس کی تھی۔

والدہ کی موت کا غم بھلانے کی کوشش کرتے ہوئے شالنی بنگلور ہی میں ملازمت کر لیتی ہے، لیکن ایک موقع پر برطرفی کے بعد وہ جموں و کشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ بشیر احمد ہے جسے اس نے بچپن میں دیکھا تھا۔

وہ ایک ٹیکسٹائل سیلز مین اور وجیہہ صورت مرد تھا۔ اب وہ اسے تلاش کرنا چاہتی ہے۔ شالنی کسی طرح مقبوضہ کشمیر پہنچ جاتی ہے۔ کہانی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں رہائش کے دوران شالنی ہندوستانی فوج کے سپاہیوں سے خوف محسوس کرتی۔ وہ کشمیری عوام کے مسائل اور ان پر ظلم و ستم دیکھتی تو تڑپ اٹھتی تھی اور پھر اس نے ان کی کہانیاں بیان کرنا شروع کر دیں۔

ناول کا یہ مرکزی کردار آسان اور سادہ زبان میں ایک ایسے خطے کے بارے میں قارئین کو بتاتا ہے جہاں ریاستی تشدد اور ظلم و ستم کی مختلف صورتیں عام ہیں اور زندگی سسک رہی ہے۔

بھارت میں موجودہ حکومت کے متنازع شہریت بل اور مقبوضہ کشمیر کے خودمختار اور انتظامی امور سے متعلق بدترین فیصلوں کے بعد مادھوری وجے کے اس ناول کو بہت اہمیت دی جارہی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں