The news is by your side.

ایرانی صدر کا مہسا امینی احتجاج سے سختی سے نمٹنے کا عندیہ، ہلاکتیں 50

تہران: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے مہسا امینی احتجاج سے سختی سے نمٹنے کا عندیہ دے دیا، مظاہرین پر تشدد سے ہلاکتیں 50 ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق ایران میں پولیس حراست میں دوشیزہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج میں مزید شدت آ گئی ہے، مظاہرین پر تشدد سے ہلاکتیں 50 سے تجاوز کر گئی ہیں۔

گوئیلان صوبے میں 60 خواتین سمیت مزید ساڑھے سات سو مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے مظاہروں کو فساد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین فسادی ہیں، ان سے فیصلہ کن انداز میں نمٹنا چاہیے۔

ادھر اقوام متحدہ کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہروں کو دبانا بند کرے۔

وزارت دفاع کے اعلان کے بعد ہزاروں روسیوں کی ملک سے فرار کی کوشش

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے ایران مہسا امینی کی موت کی تحقیقات کرے، اس کے خاندان کو انصاف فراہم کرے اور حجاب کے لازمی قانون کو ختم کرے۔

واضح رہے کہ ایران کے کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند ہے، امریکا، جرمنی، ایمسٹرڈیم سمیت دیگر ممالک میں بھی مہسا امینی کے حق میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں