The news is by your side.

Advertisement

مجید امجد کی نظم منٹو اور سعادت حسن منٹو!

مجید امجد کا شمار اردو کے اہم نظم گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی نظمیں اپنے موضوعات ہی کی وجہ سے منفرد نہیں بلکہ ان کا تخیل اور تخلیقی جوہر ان کی شاعری کا حسن ہیں اور انھیں‌ اپنے عہد کے دیگر شعرا میں نمایاں کرتے ہیں۔

متنوع موضوعات اور لب و لہجے کی انفرادیت کے ساتھ مجید امجد کی بعض نظمیں آج بھی ہمیں‌ اپنی گرفت میں‌ لے لیتی ہیں۔ ان کی شاعری کے متعدد مجموعے شایع ہوئے جن میں شب رفتہ، شب رفتہ کے بعد، چراغ طاق جہاں وغیرہ شامل ہیں۔ 11 مئی کو مجید امجد کی برسی منائی جاتی ہے جب کہ مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یومِ پیدائش بھی آج ہی ہے۔

مجید امجد نے ایک نظم “منٹو”‌ کہی تھی جو اس دن کی مناسبت سے آپ کے ذوق کی نذر ہے۔

“منٹو”
میں نے اس کو دیکھا ہے
اجلی اجلی سڑکوں پر، اک گرد بھری حیرانی میں
پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں
جب وہ خالی بوتل پھینک کے کہتا ہے
”دنیا! تیرا حسن، یہی بد صورتی ہے”
دنیا اس کو گھورتی ہے
شور سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے
انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال
کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں کا جال
بام زماں پر پھینکا ہے
کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پر پیچ دھندلکوں میں
روحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز محلکوں میں
لے آیا ہے یوں بن پوچھے اپنے آپ
عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ
کون ہے یہ گستاخ
تاخ تڑاخ!

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں