نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی سوات آمد
The news is by your side.

Advertisement

طالبان حملے کے بعد پہلی بار ملالہ یوسف زئی کی سوات آمد

سوات : نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی طالبان کے حملے کے بعد پہلی دفعہ سوات پہنچ گئیں، جہاں وہ اپنے آبائی گھر اور اسکول جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق ملالہ یوسف زئی ساڑھے پانچ سال بعد بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد سے سوات پہنچیں ، والد، والدہ اوربھائی سمیت وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب بھی ان کے ہمراہ ہیں، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتطامات کئے گئے ہیں۔

ملالہ یوسف زئی والدین اور بھائی کے ہمراہ آبائی گھر پہنچیں تو آبدیدہ ہوگئیں اور اہلخانہ کےساتھ خوبصورت لمحوں کی یادیں تازہ کیں اور گھر میں تصویریں کھنچوائیں۔

گذشتہ روز اے آر وائی کے پروگرام سوال یہ ہے میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ ہرانسان کومرضی کےمطابق زندگی گزارنےکاحق ہے، بچوں کی تعلیم پاکستان کیلئے بہت اہم ہے، ٹیکنالوجی کا دور ہے دنیا آگے جارہی ہے ہمیں بھی آگے جانا ہوگا۔

ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈاکٹرز نے حملے کے بعد سرجری کر کے جان بچائی، وطن واپس آکر بہت اچھا محسوس کررہی ہوں اور پاکستان میں تعلیم کے لیے جو کام جاری ہے اُسے بڑھانا چاہتی ہوں، سیاست کا کوئی شوق نہیں اس کے بغیر بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔


مزید پڑھیں :  سیاست کا کوئی شوق نہیں اس کے بغیر بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، ملالہ یوسف زئی


پاکستان کی بہادر بیٹی کا کہنا تھا کہ ’سوات کےلوگوں نے طالبان کے خلاف اور امن کے لیے آواز اٹھائی، مجھ پر حملہ ہوا تو پہلی سرجری پاکستانی ڈاکٹرز نے کی جس کی وجہ سے میری جان محفوظ رہی، آپریشن کرنے والے خود حیران تھے کہ میں زندہ کیسے بچ گئی۔

یاد رہے کہ 29 مارچ کو نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی 6 سال بعد اپنے والدین کے ہمراہ چار روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں تھیں، پاکستان میں قیام کے دوران ملالہ اہم شخصیات سے ملاقات اورکئی تقریبات میں شرکت کریں گی۔

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی تھی ،ملاقات میں وزیراعظم نے ملالہ کی تعلیم کے فروغ کیلئے کی گئی کوششوں کو سراہا تھا۔


مزید پڑھیں : ملالہ یوسف زئی کی 6 سال بعد پاکستان آمد


واضح رہے 2012 میں مینگورہ میں ملالہ یوسف زئی پر اسکول سے گھر جاتے ہوئے طالبان نے حملہ کردیا تھا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئی تھیں، ابتدائی طورپر ملالہ کو پاکستان میں ہی طبی امداد دی گئی تاہم بعد میں انہیں برطانیہ کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے کے علاوہ متعدد ایوارڈ حاصل کرنے والی 20 سالہ ملالہ اس وقت برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔

ملالہ یوسف زئی 3 سال تک دنیا کی بااثرترین شخصیات کی فہرست میں شامل رہیں جبکہ ان کو کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی دی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں