The news is by your side.

Advertisement

ملیر پندرہ کے زیرتعمیرفلائی اوور کا عجلت میں افتتاح

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو محکمہ بلدیات کے افسران نے ماموں بنادیا ، 53 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والا ملیر پندرہ کا فلائی اوور منصوبہ ایک ارب روپے میں بھی مکمل نہ ہوسکا۔

وزیراعلیٰ سندھ سے نامکمل فلائی اورکا افتتاح کرواکر فلائی اوور کو عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے ، جنوری 2014 میں شروع ہونے والے شہید عبداللہ مراد فلائی اوورکیلئے 53 کروڑ روپے مختص کئے گئے جس کو ایک سال میں مکمل ہونا تھا، لیکن 37 ماہ گذرنے کے باوجود پل مکمل نہ ہوا تھا عجلت میں افتتاح کردیا گیا۔

پل پر جگہ جگہ گڑھے بنے ہوئے ہیں اور دونوں اطراف کی سڑکیں بھی نہیں بنائی گئیں جبکہ بظاہر مکمل فلائی اوور کو کارپیٹ بھی نہیں کیا گیا اور پل کا ایک حصہ ریلوے پٹری کراس کرکے الفلاح تک جانا ہے اس کا کام بھی شروع نہیں ہوا ہے ۔

 ذرائع کے مطابق ٹھیکیدار نے فلائی اوور کے مذکورہ حصے کیلئے مزید 20 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ فلائی اوور کی تعمیرات میں واضح طور پر بدعنوانیاں نظر آرہی ہیں، تین بار ٹھیکیداروں کو تبدیل کیا گیا۔

اس منصوبے کے دوران صوبے میں بلدیات کے تین وزیر بھی تبدیل ہوچکے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ پل کے افتتاح کیلئے ایم این اے فریال تالپور، وزیرداخلہ سہیل انور سیال اور وزیر بلدیات جام خان شورو کے ہمراہ آئے تھے۔

افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ سندھ میڈیا کاسامنا کئے بغیر واپس چلے گئے جبکہ وزیربلدیات جام خان شورو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مکمل ہے میڈیا کو تنقید سے گریز کرنا چاہئیے ، کراچی کے تمام میگا پراجیکٹس پیپلزپارٹی کی حکومت مکمل کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں