The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: شامی اہلیہ اور ساس کو قتل کرنے والے افغان نوجوان کو 32 سال قید کی سزا

لندن: برطانوی عدالت نے افغان نوجوان جانباز ترین کو شامی اہلیہ اور ساس کو قتل کرنے پر 32 سال قید کی سزا سنادی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق رواں سال 26 اگست کی رات 21 سالہ افغان نوجوان جانباز ترین نے شام سے تعلق رکھنے والی اپنی 22 سالہ بیوی رنیم عودہ اور اس کی 49 سالہ ماں خولہ سلیم کو موت کی نیند سلادیا۔

جانباز نے پہلے اپنی اہلیہ رنیم کو چھریوں کے وار سے نشانہ بنایا جب اس کی ساس اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے آئی تو سنگ دل داماد نے اسے بھی موت کے گھاٹ اتاردیا۔

ملزم دونوں کو قتل کرنے کے بعد جائے واردات سے فرار ہوگیا پولیس نے جرم کے ارتکاب کے تین دن بعد اسے گرفتار کرلیا تھا۔

افسوس ناک واقعہ جانباز کی بیوی کے گھر والوں کی رہائش گاہ کے باہر پیش آیا جو برمنگھم شہر سے 10 کلو میٹر دور قصبے میں واقع ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران واضح ہوا کہ افغان نوجوان کی بیوی اسے چھوڑ کر اپنی والدہ کے گھر چلی گئی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ جانباز ترین نے ایک اور شادی کررکھی تھی۔

رنیم نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ جانباز اسے مارتا پیٹتا اور دھمکیاں دیتا ہے، اس پر جانباز نے اپنی بیوی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

برطانوی پولیس کے مطابق رنیم اس کی والدہ اور ایک خاندانی دوست کیفے گئے تھے وہاں جانباز کا دونوں ماں بیٹی کے ساتھ جھگڑا ہوا اور اس دوران جانباز کے ہاتھ میں چھرا یا کوئی خطرناک آلہ موجود تھا جس سے اس نے انہیں بے دردی سے قتل کردیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں