The news is by your side.

Advertisement

مسلمان جوڑے کو ہراساں کرنے پر امریکی مسافر طیارے سے بے دخل

واشنگٹن: ایک امریکی ایئر لائن میں اس وقت ایک شخص کو اس کی ساتھی کے ساتھ فلائٹ سے اتار دیا گیا جب اس نے طیارے میں موجود مسلمان مسافر جوڑے کے لیے نسل پرستانہ جملے کہے اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

یہ واقعہ یونائیٹڈ ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 1188 میں پیش آیا جس میں ایک امریکی شخص نے مسلمان جوڑے کو دیکھتے ہی انہیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ مذکورہ جوڑا مشرق وسطیٰ کے روایتی لباس میں ملبوس تھا جسے دیکھ کر امریکی مسافر نے آواز لگائی کہ، ’کہیں تم لوگوں نے اس لباس میں بم تو نہیں چھپایا ہوا‘۔

طیارے میں موجود میگن لین نامی ایک اور خاتون مسافر نے واقعے کی ویڈیو بنانا شروع کردی۔ اس سے قبل میگن اور دیگر مسافروں نے امریکی کے نسل پرستانہ اور بد تہذیب رویے کی فلائٹ کے عملے سے شکایت کی۔

مذکورہ امریکی نے نہ صرف اس جوڑے بلکہ طیارے میں موجود دیگر غیر امریکی مسافروں کو بھی ہراساں کرتے ہوئےانہیں اپنے اپنے ملک واپس جانے کا مشورہ دیا۔

طیارے میں ناخوشگوار صورتحال کو دیکھتے ہوئے فلائٹ کے عملے نے امریکی کو طیارے سے نیچے اترنے کا کہا جس کے بعد ویڈیو بنانے والی خاتون نے کہا، ’نسل پرستوں کو امریکا میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا‘۔

اس کے ساتھ ہی طیارے میں موجود دیگر مسافروں نے بھی فلائٹ حکام کے اقدام کو سراہتے ہوئے خوشی سے نعرے لگانے شروع کردیے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آتے ہی امریکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے تاہم امریکیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں اور خصوصاً پناہ گزینوں کی حمایت میں کھڑی ہے۔

رواں ماہ عالمی یوم حجاب کے موقع پر امریکا میں لاکھوں غیر مسلم خواتین نے مسلمانوں اور حجاب کی حمایت میں امریکی پرچموں سے اپنے سر ڈھک لیے اور مسلمان خواتین کے ساتھ حجاب کا دن منایا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں