The news is by your side.

Advertisement

نوجوان نے سالانہ 9 کروڑ روپے تنخواہ والی نوکری چھوڑ دی

امریکا میں نیٹ فلکس میں بطور انجینیئر کام کرنے والے مائیکل لین نے کمپنی کو اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ وہ اس کام سے بیزار ہوگئے تھے۔

مائیکل لین سنہ 2017 میں سینئر سافٹ ویئر انجینیئر کے طور پر نیٹ فلکس کا حصہ بنے تھے اور اس سے قبل ایمازون کمپنی میں کام کرتے رہے تھے۔

مائیکل لین کے مطابق جب وہ نیٹ فلکس کی ملازمت چھوڑ رہے تھے تو ان کے ذہن میں تھا کہ کیا اس سے بہتر ملازمت مل سکے گی جہاں مفت طعام اور تنخواہ کے ساتھ لامحدود چھٹیاں مل سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین بھی ملازمت چھوڑنے کے لیے خلاف تھے، مائیکل لین کے دوستوں کو بھی فکر تھی کہ ان کو کسی اور جگہ اچھی ملازمت نہیں مل سکے گی۔

ان کا خود کہنا ہے کہ نیٹ فلکس میں کام کرتے ہوئے انہوں نے کافی کچھ سیکھا مگر کرونا وائرس کی وبا کے آغاز کے بعد انہیں اپنا کام اس وقت برا لگنے لگا جب انہیں دفتر کے بجائے گھر سے کام کرنے کا کہا گیا۔

مائیکل لین نے اپنے عہدے کو بدلنے کی درخواست بھی دی مگر اسے مسترد کردیا گیا۔

اس موقع پر انہیں لگنے لگا کہ تنخواہ تو اچھی مل رہی ہے مگر ان کا کیریئر مزید آگے نہیں بڑھ سکتا جس سے ان کا کام بھی متاثر ہوا۔

کمپنی کی جانب سے انہیں اپریل 2021 میں وارننگ بھی دی گئی جس کے 2 ہفتے بعد مائیکل نے استعفیٰ دے دیا، اس موقع پر مائیکل لین کا خیال تھا کہ اس فیصلے سے ان کی سماجی زندگی اور کیریئر متاثر ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا۔

اب ان کا کہنا ہے کہ ملازمت کو چھوڑے ہوئے 8 ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے اور وہ اپنے لیے کام کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ابھی آغاز ہے اور ابھی آمدنی کا کوئی قابل بھروسہ ذریعہ بھی نہیں مگر انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں سب اچھا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں