The news is by your side.

Advertisement

موبائل ان لاک کرنے کے لیے شہری نے اپنا کٹا انگوٹھا فریج میں محفوظ کرلیا

منسکی: بیلا روس سے تعلق رکھنے والے شہری کا انگوٹھا ایک حادثے میں کٹ کر علیحدہ ہوگیا جسے اُس نے موبائل فون ان لاک کرنے کے لیے فریج میں محفوظ کرلیا۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یورپین ملک بیلا روس سے تعلق رکھنے والے 53 سالہ شہری یوری وینو گریدوف لکڑی کا کام کرتے ہیں۔ وہ لکڑی کو آرے کی مدد سے کاٹ رہے تھے کہ اسی دوران حادثہ پیش آیا اور اُن کا انگوٹھا مشین میں آکر ہاتھ سے بالکل علیحدہ ہوگیا۔

یوری وینو اپنا انگوٹھا اٹھا کر اسپتال پہنچے جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مطلع کیا کہ اب بہت دیر ہوچکی لہذا انہیں اب اپنی بقیہ زندگی کٹے ہوئے انگوٹھے کے ساتھ ہی گزرانا ہوگی۔

یوری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے موبائل کو فنگر پرنٹس کی مدد سے لاک کیا ہوا تھا اور وہ اسے انگوٹھے کی مدد سے ہی کھولتے تھے۔

’مجھے جب ڈاکٹر نے بتایا کہ انگوٹھا بے کار ہوگیا تو یہ خبر میرے لیے بہت بری تھی کیونکہ میرا موبائل اسی سے لاک تھا‘۔

بیلا روس کے شہری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹرز کے کہنے کے بعد میں اپنا کٹا ہوا انگوٹھا گھر لے کر گیا اور اسے فریج میں محفوظ کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ اب اگر مجھے اپنا موبائل کھولنا ہوتا ہے تو کٹے ہوئے انگوٹھے کی مدد سے ہی کھولتا ہوں اور اگر اسے گھر بھول کر چلا جاؤں تو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انٹرنیٹ پر شیئر ہونے والی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یوری فریج سے اپنا انگوٹھا نکال کر اسے موبائل کے فنگر پرنٹ اسکینر پر لگا کر فون کو ان لاک کرتے ہیں۔

مذکورہ ویڈیو یوری کے 31 سالہ بیٹے پیول نے بنائی جنہوں نے بتایا کہ انگوٹھے کو کٹے ہوئے کئی روز گزر چکے مگر اس کے فنگر پرنٹس سے ابھی بھی فون کھل رہا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں