The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن: کیا آم باغات سے بازار تک پہنچ سکے گا؟

آم کی فصل بُور پر ہے اور ہر سال موسمِ گرما میں سیکڑوں مزدور اس رسیلے اور گودے والے پھل کو باغات میں اکٹھا کرتے نظر آتے ہیں۔ اور یہ مہینہ تو ہے ہی اس پھل کے پیڑ سے اتر کر ہم تک پہنچنے کا۔

برصغیر میں آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ یہ پھل اپنے پیڑ سے کچا بھی اتارا جاتا ہے جو عام طور پر اچار اور مختلف پکوانوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن پکنے کے بعد تو جیسے اس کی سج دھج ہی نرالی ہوتی ہے اور مخصوص مہک کے ساتھ پیلے رنگ کا یہ پھل خوب بکتا ہے۔

یہ آم کا مہینہ ہے، لیکن ملک بھر میں کرونا کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے آم کے بیوپاری اور اس سیزن میں‌ کام کرنے والے مزدور بہت پریشان ہیں۔

ماہرینِ زراعت کے مطابق اپریل ہی میں ملک کے مختلف علاقوں میں آموں کے باغات میں مزدور پہنچنا شروع ہوجاتے تھے جس سے ان کی روزی روٹی جڑی ہوتی ہے۔ زرعی زمین کے مالک آموں کے باغات کو معاوضہ طے کرکے ٹھیکے پر دے دیتے تھے، لیکن اس سال نہ صرف عام اجتماعات پر پابندی ہے بلکہ ذرایع نقل و حمل اور آمدورفت پابندی اور بندشوں کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سال منڈیوں تک پھلوں کے بادشاہ کا پہنچنا مشکل ہے اور عوام کی اکثریت اس کا لطف اٹھانے سے محروم ہوسکتی ہے۔ اس سیزن میں یومیہ کئی ٹن آم نہ صرف اکٹھا ہوتا تھا بلکہ ٹرکوں اور مختلف گاڑیوں میں لاد کر بازاروں میں پہنچایا جاتا تھا جس سے کئی لوگوں کو روزگار میسر آتا تھا۔

اس سال پیڑوں پر کچے پکے آموں کے درمیان کوئل اور پپیہے کی دل موہ لینے والی اور مدھر کوک تو سنائی دے رہی ہے، مگر فطرت کے اس حُسن میں اداسی کا رنگ بھی شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں