ہفتہ, اپریل 5, 2025
اشتہار

منوج کمار: بولی وڈ کے لیجنڈری اداکار جن کے والد اردو کے معروف شاعر تھے

اشتہار

حیرت انگیز

قومی تفاخر اور حب الوطنی کے موضوع پر بولی وڈ کی فلموں میں شان دار پرفارمنس کی وجہ سے منوج کمار کو ‘بھارت کمار‘ بھی کہا جانے لگا تھا۔ منوج کمار نے فلم انڈسٹری میں بطور اداکار ہی نہیں شہرت پائی بلکہ پروڈکشن اور ہدایت کاری کے شعبہ میں بھی کام کیا اور نوّے کی دہائی انڈسٹری میں خاصے متحرک رہے۔

ہری کرشن گوسوامی المعروف منوج کمار 1937ء میں ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایچ ایل گوسوامی کے بیٹے تھے جو اردو شاعر کی حیثیت سے پہچان رکھتے تھے۔ ایبٹ آباد منوج کمار کا ننھیالی گاؤں تھا جب کہ ددھیال ضلع شیخو پورہ کے جنڈیالہ شیر خان سے تعلق رکھتا تھا۔ اداکار منوج کمار کی مذکورہ شہروں کے ساتھ لاہور سے بہت سی یادیں وابستہ تھیں۔ ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا تو منوج کمار کے والد کو بھی اپنی زمین چھوڑنا پڑی۔ بھارت میں‌ منوج کمار کی پڑھائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ گھر کا ماحول علمی و ادبی تھا جس کے باعث منوج کمار کو بھی ادب سے دل چسپی رہی اور فلمیں دیکھنے کا بھی شوق پیدا ہوگیا۔

منوج کمار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دلیپ کمار کی فلم ”جگنو‘‘ دیکھنے کے بعد وہ ان کے دیوانے ہوگئے۔ اس کے بعد فلم ”شبنم‘‘ دیکھی جس میں دلیپ کمار نے منوج کا کردار نبھایا تھا۔ اسی فلم کو دیکھنے کے بعد ہری کرشن گوسوامی نے اپنا نام منوج کمار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت وہ دہلی میں مقیم تھے اور پھر نوجوانی میں فلم میں کام کرنے کا خواب سجائے 1956ء میں بمبئی چلے گئے۔ وہ ایک خوش قامت اور وجیہ صورت نوجوان تھے جس کے چچا بمبئی میں تھے اور یوں منوج کمار کو وہاں رہائش کا مسئلہ نہیں ہوا۔ کچھ وقت نگار خانوں کے چکر کاٹنے کے بعد منوج کمار کو فلم ”فیشن‘‘ میں کردار مل گیا۔ اس کے بعد اسے چند اور فلمیں سہارا، چاند، ہنی مون میں چھوٹے اور مختصر کردار نبھانے کا موقع ملا۔ پہلا لیڈنگ رول 1961ء میں منوج کمار نے فلم ”کانچ کی گڑیا‘‘ میں نبھایا اور اسی برس تین مزید فلموں ”پیا ملن کی آس‘‘، ”سہاگ سیندور‘‘ اور ”ریشمی رومال‘‘ میں کام کیا۔ اگلے ایک سال کے دوران منوج کمار کو ”اپنا بنا کے دیکھو‘‘اور ”گرہستی‘‘ جیسی فلمیں ملیں۔ لیکن شہرت انھیں راج کھوسلہ کی فلم ”وہ کون تھی؟‘‘ سے ملی۔ یہ فلم 1964ء میں ریلیز ہوئی اور باکس آفس پر شان دار کام یابی حاصل کی۔ اس فلم میں لتا منگیشکر کے گائے ہوئے دو گیتوں ”لگ جا گلے‘‘ اور ”نیناں برسیں رِم جھم رِم جھم‘‘ شامل تھے جو ہندوستان بھر میں مقبول ہوئے اور آج بھی ان کی مقبولیت برقرار ہے۔ اب فلم ”شہید‘‘ آئی جس میں منوج کمار نے بھگت سنگھ کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ جنگِ‌ آزادی اور انقلابی تحریک کی وہ داستان تھی جسے ہندوستان بھر میں‌ سراہا گیا اور منوج کمار کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔

اب منوج کمار فلمی دنیا میں بطور اداکار اپنی پہچان بنا چکے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے خود کو بطور ہدایت کار منوانے کا فیصلہ کیا اور 1967ء میں ان کی فلم ”اُپکار‘‘ ریلیز ہوئی جس نے باکس آفس پر دھوم مچا دی۔ وطن سے محبت پر منوج کمار کے فلموں میں کردار کو شائقین نے بہت پسند کیا اور پھر وہ بھارت کمار کے نام سے مشہور ہوگئے۔ 1969ء میں فلم ”ساجن‘‘ اور اگلے ہی سال ”پورب اور پچھم‘‘ نے منوج کمار کی شہرت میں مزید اضافہ کیا۔ 1972ء کی ریلیز کردہ فلم ”بے ایمان‘‘ پر منوج کو بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ اسی سال فلم ”شور‘‘ پر بھی وہ فلم فیئر ایوارڈ لے اڑے۔ پھر ان کی ایک بلاک بسٹر فلم ”کرانتی‘‘ سامنے آئی اور وہ اس ہدایت کار بھی تھے۔ یہ فلم سال کی بہترین فلم قرار پائی۔ بعد کے برسوں‌ میں منوج کمار نے خاص کام یابی نہیں سمیٹی لیکن انھیں فلم بین اور فن کار کوئی بھی فراموش نہیں کرسکا۔

دل کے عارضے میں‌ مبتلا منوج کمار جمعہ (آج) کے روز ممبئی کے ایک اسپتال میں چل بسے۔ وہ حکم راں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن بھی رہے۔ 1950ء کی دہائی میں اداکاری کا آغاز کرنے والے منوج کمار نے بھارتی سنیما کا سب سے بڑا اعزاز ‘دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘ بھی حاصل کیا تھا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں