The news is by your side.

Advertisement

منٹو کیوں مرنا چاہتا تھا؟

اردو کے سب سے بڑے افسانہ نگار کا ذکر کیا جائے تو شاید چند ہی لوگوں کے ذہن میں سعادت حسن منٹو کے علاوہ کسی اور کا نام آئے ۔ مختلف مکاتب فکر کی نظر میں متنازعہ ہونے کے باوجود منٹو ایک لیجنڈ سمجھے جاتے ہیں ۔ 

منٹو ایک خودار اور انا پرست ا اور طنطنے والے انسان تھے مگر منٹو کی شراب نوشی ان کے کردار کی ایسی خامی تھی جس نے نہ صرف انھیں انتہائی پستی میں گرا دیا بلکہ اسی کی وجہ سے وہ کسمپرسی کے عالم میں خون تھوکتے ہوئے دنیا سے گئے ۔ شراب نوشی نے خوش حال زندگی گزارنے والے ہر دلعزیز منٹو کو اس حال کو پہنچا دیا جہاں ان کا خاندان اور دوست ان سے منہ چھپائے پھرتے کہ کہیں شراب کے لیے قرض نہ مانگ لے ۔ شراب کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے تھے ۔ ایک بار بیٹی بیمار ہوئی گھر میں پیسے نہیں تھے ان کی اہلیہ ہمسائے سے قرض لے کر آئی تو منٹو ان پیسوں سے بچی کی دوا کی بجائے شراب کی بوتل لے آئے ۔ وہ منٹو جو سب کا دوست اور آئیڈیل تھا جسے لوگ سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے وہ منٹو اپنا دشمن خود ہی تھا ۔

اور بالاخرعظیم افسانہ نگار منٹو شرابی منٹو کے ہاتھوں شکست کھا گیا ۔ ہندوستان میں منٹو نے آسودہ زندگی گزاری بہت سے فلم سازوں کی آنکھ کا وہ تارا تھے ۔ مصوررسالے کے مدیر رہے اتنا کماتے تھے زندگی کی آسائشین ان کی دسترس میں تھیں ۔ تقسیم ہند کے بعد اپنے قریبی دوست اشوک کمار سے ناراض ہو کر بغیر کسی کو بتائے پاکستان چلے آئے ان کا خیال تھا کہ انڈیا کی طرح پاکستان میں بھی ان کی پزیرائی ہو گی تاہم یہاں آکر وہ یکسر مختلف حالات سے دوچار ہوئے ۔ کچھ ہی دنوں بعد ان کے افسانے ٹھنڈا گوشت پر فحاشی کا الزام لگا جس پر انھیں قید اور جرمانے کی سزا ہوئی ۔ بعد میں اور بھی افسانوں کے خلاف مقدمے بنے ۔ ان کے بھانجے مسعود پرویز نے فلم بیلی بنائی جس کے لیے منٹو کی خدمات لیں گئی ۔ یہ فلم فیل ہو گئی اور ایک فلم فیل ہو تو بہت سے لوگ فیل ہو جاتے ہیں منٹو کا بھی یہی حال تھا ۔ فلم کے فلاپ ہونے کے بعد ان کی بے روزگاری بڑھی اور ساتھ ہی شراب نوشی بھی ۔

منٹو کی شراب نوشی اس حد تک بڑھ گئی کہ انھیں اس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔ وہ روز ایک افسانہ لکھ کر پبلشر کے حوالے کرتے اور تیس روپے لے کر شراب خرید لیتے اور پھر رات گئے تک شراب پیتے رہتے ۔ اگلے دن پھر یہی روٹین ہوتی ۔ کثرت شراب نوشی نے منٹو کو جسمانی اور ذہنی طور پر تباہ کر دیا تھا اور کئی بار وہ دیوانوں کی طرح باتیں کرنے لگتے

۔ جن لوگوں نے منٹو کے عروج کا زمانہ دیکھا تھا وہ کہتے تھے کہ یہ منٹو اصل منٹو کا سایہ بن کر رہ گئے تھے ۔ انھیں شراب نوشی سے نجات دلانے کے لیے ہسپتال میں بھی داخل کروایا گیا مگر وہ وہاں بھی گھر والوں سے چھپ کر شراب پی لیتے اور یہ شراب ان کے جگری دوست شاد امرتسری مہیا کرتے ۔ وہ کہتے تھے کہ اگر منٹو کو شراب نہ دی تو یہ موت سے پہلے مر جائے گا ۔ قتیل شفائی نے اپنی کتاب گھنگھرو ٹوٹ گئے میں لکھا ہے کہ شاد امرتسری نے انھیں بتایا شراب کے ذریعے منٹو رفتہ رفتہ خودکشی کر رہا تھا گر یہ اس سے چھین لی جاتی تو وہ واقعی خودکشی کر لیتا ۔ شاد امرتسری نے بتایا کہ ایک دن منٹو آپدیدہ ہو گیا اور کہنے لگا شاد میں مر جانا چاہتا ہوں ۔ جتنا جلد مر جاوں اچھا ہے کیونکہ میں اب جینے کے قابل نہیں رہا ۔ شاد سمجھے کہ شاید وہ اپنی شراب نوشی اور اس کی وجہ سے معاشرے میں اٹھائی جانے والی ذلت کی بات کریں گے مگر انہوں نے ایک عجیب بات کہی کہ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے میں مردانہ اوصاف سے تقریبا محروم ہو چکا ہوں ۔ دیکھو میری عمر ہی کیا ہے ابھی پینتالیس بھی نہیں ۔ کبھی اگر کوئی ایسا ارادہ کر بھی لوں تو محض کمرے میں جا کر بیوی کو دیکھتا رہتا ہوں ۔ بیوی چونکہ میری حالت سے بخوبی آگاہ ہے اس لیے اگر اس کی آنکھ کھل جاتی تو وہ تسلی دے کر مجھے رخصت کر دیتی کہ آپ آرام کریں تھک گئے ہوں گے ۔

مگر اس کے بعد مجھ پر صبح تک قیامت گزر جاتی ۔ شاد امرتسری نے کہا کہ منٹو نے بتایا کہ اس حالت کو کئی ماہ گزر چکے ہیں ۔ لہذا مجھے اب مر جانا چاہیے ۔ شاد کے مطابق منٹو جو صبح سے شام تک پیتا رہتا تھا ۔ وہ مر جانا چاہتا تھا کیونکہ اس میں خود کو گولی مارنے کی ہمت نہیں تھی۔ اگر اس کی شراب چھین لی جاتی تو وہ ادھر کا ہی رخ کرلیتا ۔ قتیل شفائی نے کثرت شراب نوشی کے باعث منٹو کی ذہنی حالت کی خرابی کے متعلق بھی ایک واقعہ نقل کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار میں منٹو سے ملنے ان کے گھر گیا تو منٹو نے کہا قتیل میری جان تم نے مجھے بتایا تو نہیں کہ تم ملنے آرہے ہو مگر جب تم آرہے تھے تو مجھے پتہ چل گیا جب تم لکشمی منزل ( لکشمی بلڈنگ میں منٹو رہائش پزیر تھے یہ تاریخی عمارت ابھی بھی موجود ہے لیکن فرنٹ کے علاوہ ساری بلڈنگ گرا دی گئی تاہم تاخیر سے ہی سہی مگر اس کا فرنٹ بچا لیا گیا ) پہنچے تو مجھے پتہ چل گیا کہ تم آ گئے ہو ۔ میرے کان میں ہر وقت ایک آٖواز آتی رہتی ہے یہ کہہ کر انھوں نے اپنا کان میرے کان سے لگا دیا کہ سنو مگر مجھے کوئی آواز نہ آئی تو بولے کچھ دیر رکو وہ آواز آ جائے گی ۔ قتیل شفائی کے مطابق ایسے متعدد واقعات پیش آئے ۔ منٹو کی موت کا دردناک احوال ان کے بھانجے حامد جلال نے کچھ یوں بیان کیا جسے پڑھ کر انسان کا دل درد میں ڈوب جاتا ہے ۔ انہوں نے لکھا زندگی کے آخری لمحوں میں جب منٹو کو ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے شدید سردی لگ رہے مجھ پر دو رضائیاں ڈال دو ۔

کچھ دیر بعد انہوں نے بھانجے کوکہا کہ میرے کوٹ کی جیب میں ساڑھے تین روپے پڑھے ہیں اس میں کچھ رقم اور ملا کر مجھے ویسکی منگوا دو ۔ شراب پینے کے لیے اس کا اصرار بڑھتا رہا تو ان کی تسلی کے لیے ایک پوا منگوایا گیا ۔ شراب کو دیکھ کر منٹو کی آنکھوں میں عجیب آسودگی نظر آئی اور انہوں نے کہا کہ میرے لیے دو پیگ بنا دو۔ وہسکی پی تو درد سے تڑپ اٹھے اور غشی طاری ہو گئی ۔ اتنے میں ایمبولینس منگوائی گئی تو تو پھر وہسکی کی فرمائش کی چمچ سے وہسکی منہ میں ڈالی گئی تو سب بہہ گئی ۔ اسکے بعد ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا تو راستے میں ہی دم توڑ گئے ۔ منٹو کو گزرے 67 سال گزر چکے ہیں وہ معاشرہ جس نے زندگی میں منٹو کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا مرنے کے بعد آج اس کے نام کی مالا جپتے دکھائٰی دیتا ہے اورسینہ تان کر کہتا ہے کہ منٹو ہمارا ہے ۔

اگر نقاد منٹو کو اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار نہ بھی تسلیم کریں مگر یہ بات سچ ہے کہ منٹو نے اردو کا سب سے منفرد افسانہ نگار ہے منٹو وہ آئینہ ہے جس نے معاشرے کو اس کا اصل چہرہ دکھایا اور ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح ناسوربنتے معاشرتی زخموں کی اپنی تحریروں سے جراحی کرنے کی کوشش کی ۔ ان کے مزار کی لوح پرعبارت سو فیصد درست ثابت ہوئی کہ ان کا نام لوح جہان پر حرف مکرر نہیں تھا ۔منٹو جسمانی طور پر تو صرف تینتالیس برس ہی زندہ رہ سکے مگراردو ادب زندہ رہنے کے لیے ہمیشہ منٹو کی تحریروں سے حرارت حاصل کرتا رہے گا ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں