سعودی عرب: غیر ملکیوں نے دکانیں، کاروبار بند کرنا شروع کردئیے Saudization
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غیر ملکیوں نے دکانیں، کاروبار بند کرنا شروع کردئیے

ریاض: سعودی عرب میں دکانوں اور شورومز میں مقامی ملازمین بھرتی کرنے کی ڈیڈ لائن میں 6 روز باقی رہ گئے، سعودی عرب میں مقیم غیرملکیوں نے اپنی دکانیں اور کاروبار بند کرنا شروع کردئیے۔

عرب میڈیا کے مطابق محکمہ لیبر نے دکانداروں، آٹوموبائل، شورومز، کپڑوں، فرنیچرز اور گھریلو سامان کی دکانوں میں 70 فیصد سعودی ملازمین بھرتی کرنے کا حکم دیا تھا۔

معاشی ماہر فہد الشرفی کے مطابق سعودی عرب کی ریٹیل مارکیٹ 375 ارب ریال مالیت کی ہے اور اس اقدام سے 10 لاکھ نوکریاں پیدا ہونے کا امکان ہے، ملازمتوں پر مقامی افراد کو رکھنے کے فیصلے سے سعودی شہریوں اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔

مدینہ میں گارمنٹس کی دکان کے مالک محمد المتیری نے کہا کہ سعودی حکومت کے فیصلے کے تحت 40 سعودی دکان میں بھرتی کررہے ہیں۔

دمام میں کاروبار کرنے والے عبدالطیف النصیر کے مطابق کافی عرصے سے سعودی عرب میں کاروبار کررہے ہیں تاہم سعودی حکومت کے اس فیصلے کے بعد وہ اپنا کروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ایک تجربہ کار ملازم اقبال محمد کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کے اس فیصلے کے بعد آئندہ دو ماہ میں مزید دکانیں بند ہونے کا خدشہ ہے۔

اس فیصلے کے بعد سے گھڑیوں، چشموں، طبی سامان، الیکٹرانک آلات، گاڑیوں کے پرزوں کی دکانوں، تعمیراتی اور دفاتر کے سامان، قالینوں اور تیار ملبوسات کی دکانوں پر بھی سعودی ملازم کام کریں گے۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر سے سعودی محکمہ لیبر اس قانون پر عملدرآمد کے لیے 200 انسپکٹرز تعینات کرے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں