The news is by your side.

Advertisement

مقصود قتل کیس، پولیس افسر کو سزائے موت

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی فائرنگ سے قتل ہونے والے شہری مقصود کیس کا فیصلہ سنادیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پولیس کی فائرنگ سے قتل ہونے والے مقصود نامی شہری کے کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سندھ پولیس کے اے ایس آئی طارق کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا۔

اے ٹی سی کی جانب سے جاری فیصلے میں مجرم کو دو لاکھ روپے جرمانہ مقتول کے لواحقین کو دینے کا حکم دیا گیا، عدالت نے ہرجانے کی عدم ادائیگی پر مزید 6 ماہ قید کی سزا کا حکم دیا۔

عدالت نے مقدمے میں مفرور عاشق حسین چاچڑ کے تاحیات وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔

مقصود قتل کیس۔۔۔۔ کب کیا ہوا؟

یاد رہے 18 جنوری 2018 کو پیش آنے والے واقعے میں پولیس کی فائرنگ سے مقصود نامی نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔

پولیس نے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ شارع فیصل پر گشت پر موجود اہلکاروں نے ایک مشتبہ رکشے کو روکا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس کے بعد پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں چار ملزمان زخمی ہوگئے۔

پولیس کے ابتدائی بیان میں بتایا گیا تھا کہ زخمی ملزمان کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے ایک ملزم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جس کی شناخت مقصود کے نام سے ہوئی جبکہ دیگر زخمی ملزمان میں رؤف، بابر اور علی شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان شارع فیصل پر شہریوں سےلوٹ مار کرتے تھے اور ایئرپورٹ سے واپس آنے والوں کو ہدف بناتے تھے۔

بعدازاں پولیس نے اپنا بیان تبدیل کرلیا اور بتایا تھا کہ مقابلے کے دوران فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا ہے جبکہ 2 ملزمان گرفتار کیے گئے جن میں علی اور بابر شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق جاں بحق شخص مقصود رکشے میں سوار تھا اور رکشا ڈرائیور عبدالرؤف فائرنگ سے زخمی ہوا تھا۔

تاہم ایک سی سی ٹی وی ویڈیو نے 20 جنوری کو پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں نوجوان مقصود کے قتل کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں