The news is by your side.

Advertisement

ماریوپول کے میئر خود نکل گئے، شہر میں لاکھ سے زائد شہری انخلا کے منتظر

کیف: مشرقی یوکرین کے شہر ماریوپول کے میئر خود تو نکل گئے ہیں، تام شہر میں لاکھ سے زائد شہری سنگین حالات میں انخلا کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یوکرین کے شہر ماریوپول کے میئر ودائم بوئی چینکو نے شہریوں کے انخلا کے لیے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں محفوظ راستے فراہم کیے جائیں۔

ودائم بوئی چینکو نے بدھ کے روز جاپانی میڈیا این ایچ کے، کو آن لائن انٹرویو دیا، وہ خود ماریوپول سے نکل چکے ہیں اور اب ایک دوسرے شہر میں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ شہر میں پھنسے شہریوں کے انخلا کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔

28 مارچ کو میئر آفس نے، جب کہ بوئی چینکو خود شہر چھوڑ کر جا چکے تھے، بتایا کہ کہ شہر پر روسی قبضے کے بعد سے 90 فی صد عمارتیں تباہ اور 40 فی صد ختم ہو چکی ہیں، تقریباً 290,000 لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں اور تقریباً 170,000 اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

میئر کا کہنا تھا کہ ماریوپول میں صورت حال الم ناک ہے، شہر میں لوگوں کو پانی، خوراک، بجلی، گرمائش اور رابطے کے ذرائع کی کمی کا سامنا ہے، انہوں نے بتایا کہ پانی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور یہ صورت حال انسانی بحران بن چکی ہے۔

بوئی چینکو نے کہا کہ سڑکوں پر لڑائی جاری ہے اور شہر کے وسطی نصف حصے پر روسی فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔

میئر کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد پیچھے شہر ہی میں رہ گئے ہیں، انھوں نے روسی فورسز پر الزام لگایا کہ وہ امدادی سامان کی نقل و حمل اور عام لوگوں کے انخلا میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔

ماریوپول میئر نے انٹریو میں لڑائی کو کم از کم 2 ہفتوں تک روکے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ انخلائی راستوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں