The news is by your side.

Advertisement

مارک زکربرگ کی کانگریس ارکان کو ڈیٹا کا غلط استعمال روکنے کیلئےمزیداقدامات کی یقین دہائی

واشنگٹن : سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کانگریس ارکان کو ڈیٹا کا غلط استعمال روکنے کیلئے مزید اقدامات کی یقین دہائی کرادی ۔

غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق فیس بک کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کانگریس ارکان سے ملاقات کی ، ملاقات میں کانگریس کو تحریری طور پر یقین دہانی کرائی کہ فیس بک کی سیکورٹی اور صارفین کے ڈیٹا کا غلط استعمال روکنے کے لئے مزیدموثراقدامات کئے جائیں گے۔

زکر برگ دو روز بعد کانگریس کی ہیرنگ میں پیش ہوکر سوالات کے جواب دیں گے۔

اس سے قبل امریکی سینیٹر جون کینیڈی نے مارک زکر برگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ فیس کے بانی ڈیٹا چوری کے حوالے سے سچ بولیں ورنہ ہم سچ تک خود پہنچنا جانتے ہیں۔

یاد رہے کہ صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال پر بانی فیس بک نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا اس صورتحال سے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی، اگر ہم عوام کے ڈیٹا کی حفاظت نہیں کر سکتے تو کام چھوڑ دینا چاہیے۔


مزید پڑھیں : صارفین کے ڈیٹا کاغلط استعمال، فیس بک کے بانی نے غلطی تسلیم کرلی


بعد ازاں فیس بک نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈیٹا چوری کے حوالے سے صارفین سے رابطہ کرکے اس بارے میں آگاہ کریں گے، کمپنی کے مطابق متاثرہ صارفین کو ان کی نیوز فیڈ پر تفصیلی پیغام کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا، ان صارفین میں سے اکثریت ان کی ہے جنہوں نے اپنی معلومات ڈیٹا انالیٹیکس فرم کے ساتھ شیئر کی تھیں، ان میں سے 70 ملین افراد کا تعلق امریکا سے بتایا جاتا ہے۔

تمام فیس بک صارفین کو بھی پروٹیکٹنگ انفارمیشن کا ایک ایپلی کیشن کے ساتھ نوٹس دیا جائے گا، ایپلی کیشن کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کون سی معلومات آپ نے شیئر کی ہیں، یہ اقدام کیمبرج انالیٹیکا کمپنی پر عائد الزام کے باعث کیا گیا ہے۔

خیال رہے سیاسی مشاورتی کمپنی کی جانب سے امریکی صدارتی انتخاب میں فیس بک کے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا بغیراجازت استعمال ہونے کے انکشاف کے بعد فیس بک کوشدیدتنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے انالیٹیکا کمپنی پر الزام ہے کہ انہوں نے لاکھوں امریکی شہری کی معلومات کو ایک سافٹ ویئر پروگرام کے تحت امریکی صدارتی الیکشن میں ووٹرز پر اپنا اثر و رسوخ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں