The news is by your side.

Advertisement

سابق بھارتی چیف جسٹس کا بابری مسجد کیس فیصلے پر مؤقف سامنے آ گیا

نئی دہلی : بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ ایودھیاکیس کے فیصلے کا تاریخ کے کم تر فیصلوں میں شمار ہوگا ، بھارتی سپریم کورٹ نےخطرناک رجحان کی بنیادرکھ دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایودھیا کیس پر بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایودھیاکیس کےفیصلےکاتاریخ کےکم ترفیصلوں میں شمارہوگا، بھارتی سپریم کورٹ نے بتایا کہ مائٹ ازرائٹ۔

سابق بھارتی جج کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے جارحیت کی حمایت کی، بھارتی سپریم کورٹ نے خطرناک رجحان کی بنیاد رکھ دی ہے، 500 سال پہلے مندر گرا کر مسجد تعمیر کرنے کی بات احمقانہ ہے، ایسی باتیں کچھ لوگوں کے سیاسی ایجنڈے کو تقویت دینے کے لئے ہیں۔

مزید پڑھیں : بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا بھارتی حکومت کی زیرنگرانی بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔

فیصلے میں سنی اور شیعہ وقف بورڈز کی درخواستیں مسترد کردی گئیں تھیں اور کہا گیا تھا کہ تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیارام کی جنم بھومی ہے، بابری مسجد کا فیصلہ قانونی شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

بعد ازاں پاکستان نے تاریخی بابری مسجد کے فیصلے پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک بار پھرانصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا۔

 

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں