کلثوم نواز سے آمریت کے خلاف آواز بلند کرنے کا بدلہ لیا جارہا ہے: مریم اورنگزیب Maryam
The news is by your side.

Advertisement

کلثوم نواز سے آمریت کے خلاف آواز بلند کرنے کا بدلہ لیا جارہا ہے: مریم اورنگزیب

اسلام آباد: وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کا احتساب نہیں ہورہا، انتقام لیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب ریفرنسز میں نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے انھوں نے کہ آج کلثوم نواز سے آمریت کے خلاف آواز بلند کرنے کا بدلہ لیا جارہا ہے۔

نواز شریف اور مریم نواز کا احتساب نہیں ہورہا، انتقام لیا جارہا ہے، استثنیٰ کی درخواست کا مسترد ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے

مریم اورنگزیب وزیر مملکت برائے اطلاعات

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے نوازشریف کے خلاف فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، استثنیٰ کی درخواست کا مسترد ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، انھیں کلثوم نواز کے حوصلے کا اندازہ نہیں، کلثوم نواز آمر کے جبر کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئی تھیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نیب پراسیکیوٹر کہتے ہیں، میڈیکل رپورٹ میں ایسی کوئی بات نہیں کہ پورا خاندان لندن جائے، ایسے فیصلے تو صرف وہی کرسکتے ہیں، جن کا اپنا ضمیر مرجاتا ہے۔ ہم سے انتقام لیا جارہا ہے، کلثوم نواز کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں، ان سےآمریت کےخلاف آوازاٹھانےکابدلہ لیاجارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز کے ڈاکٹرز کو نوازشریف سے مشاورت کرنی ہے، قانون کے مطابق 7 دن کا استثنیٰ مانگا گیا تھا، جو آئین توڑتاہے اس کو کمر درد کے بہانے ملک سے باہر بھیج دیا جاتا ہے، کیا کلثوم نوازسےآمریت کےخلاف آواز اٹھانے کا بدلہ لیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نوازشریف کے ساتھ ہیں، نوازشریف عوام کے ووٹ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ چھ ماہ میں احتساب عدالت کو فیصلہ سنانے کا حکم دیا گیا تھا، مگر آج توسیع مانگی جارہی ہے، واجد ضیا اپنی جیب میں ایک چابی رکھ کر آتے ہیں، وہ چابی کہاں سے آتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ منتخب وزیراعظم کو کرپشن پر نہیں اقامے پر گھر بھیج دیا جاتا ہے، یہ انتقام اس لئے لیاجارہا ہے کہ ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔اندھیرے دور کئے اور ملک سے دہشت گردی مٹائی۔


وقت ایک جیسا نہیں رہتانہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ،مریم نوازکا ٹوئٹ


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں