The news is by your side.

Advertisement

مریم اورنگزیب اینکرپرسن کو ڈکٹیٹ کرنے لگیں

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب اے آر وائی نیوز کے سینئر اینکر پرسن کاشف عباسی کے اشتہارات سے ‏متعلق سوالات کا جواب دینے کی بجائے انہیں ڈکٹیٹ کرنے لگیں۔

بدھ کی شب اے آر وائی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام آف دی ریکارڈ میں اینکرپرسن کاشف عباسی نے مریم اورنگزیب سے ‏لیگی دور حکومت میں مخصوص چینلز کے اشتہارات روکنے کی وجہ جاننے کے لیے کئی بار پوچھا تاہم ترجمان ‏ن لیگ کی جانب سے سوال گندم جواب چنا کے مصداق غیرمتعلقہ جواب دیے گئے۔

کاشف عباسی نے کئی بار سوال کیا کہ مریم نواز نے مخصوص چینلزکے اشتہارات کیوں روکے؟ جس پر مریم ‏اورنگزیب نے جواب دیا کہ مریم نواز نےاعتراف کیاکہ آڈیوٹیپ ان کی ہے۔

اینکر کے اصرار پر مریم اورنگزیب نے ڈکٹیٹ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اشتہارات کے بجائے ثاقب نثار کی آڈیوٹیپ پر ‏پروگرام رکھیں۔

کاشف عباسی نے سوال کیا کہ چینلز کا بائیکاٹ کرنا اور مقدمےکرانا کیا درست تھا؟ جس پر مریم اورنگزیب نے کہا ‏کہ مسلم لیگ ن کواب آپ ٹارگٹ کر رہے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی اشتہارات کی تفصیلات ماننے سے ‏بھی انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف کہتےہیں نیب آزاد ہے دوسری طرف ترجمانی کرتےہیں، ثاقب نثار سے سوال پوچھا گیا ‏تو انہوں نےکہا میری آواز نہیں ہے ثاقب نثار نے بعد میں کہا میری آواز کو توڑ کر ایک کلپ بنائی گئی، ‏معتبر صحافی کی جانب سےآڈیولیک کی باقاعدہ فرانزک کرائی گئی اور صحافی نے باقاعدہ فرانزک کے بعد ‏آڈیولیک جاری کی ہے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ 4 سال عمران خان کی جانب سے ن لیگ پر گھٹیا زبان استعمال ہوئی، کوئی چینل بند نہیں ‏ہوا کوئی پروگرام بند نہیں کرایا گیا جسٹس(ر)ثاقب نثارسوالوں کےجواب دیں، جسٹس(ر)ثاقب نثار کو سوالوں کا ‏جواب دینا ہے فوادچوہدری کو نہیں ہماری لیگل ٹیم بیان حلفی،آڈیولیک جیسےشواہدکو دیکھ رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں