site
stats
خواتین

مریم نواز دنیا کی 11 بااثر خواتین میں شامل

نیویارک : سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز دنیا کی 11 بااثر خواتین میں شامل ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نے 2017 میں دنیا کی 11بااثر خواتین کی فہرست جاری کردی، جس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کو عزم و ہمت کی بنیاد پر نام بنانے پر فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی جانب سے دنیا بھر میں 11 طاقتور خواتین کی جاری فہرست کا مقصد دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی شخصیات کو اجاگر کرنا ہے۔

فہرست میں ایسی خواتین کا تذکرہ کیا گیا ہے، جنہوں نے الفاظ ، ارادوں اور عزائم سے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کےلئے طویل جد وجہد کی اور دنیا کے منظر نامے میں اپنی شناخت بنائی جبکہ فہرست میں کئی خواتین ایسی بھی ہیں جو جنسی زیادتیوں ، تشدد ، صنفی امتیاز اور ایسے کئی منفی رویوں کا سامنا کرتی رہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق حال ہی میں مریم نواز اپنے والد، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانشین کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہیں لیکن بدعنوانی کے الزامات کے باعث انکی سیاسی کیریئر پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

مریم جو اپنے والد کے قریبی مشیر کے طور پر بھی مشہور ہیں، مریم نواز ان دنوں پاکستان مسلم لیگ ن کی اہم رہنماء کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں جبکہ وہ شریف خاندان کی چیریٹی تنظیموں کا بھی اہم حصہ ہیں جبکہ احتساب عدالت میں مقدمات کا سامنا کررہی ہے۔

رواں سال جولائی میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد مریم نے پارٹی میں زیادہ اہم کردار ادا کیا اور فیصلہ کے بعد فوج اور عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد لاہور کے حلقے این اے 120 کے ضمنی الیکشن کے لیے اپنی والدہ کلثوم نواز کی باقاعدہ انتخابی مہم چلائی اور اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔

خیال رہے کہ مریم نواز مسلم لیگ ن پارٹی میں کسی عہدہ کی حامل نہیں، جس کے باعث کئی بار انکو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

دیگر طاقتور خواتین میں دنیا کی سب سے قدیم خاتون ایما مورانو، سعودی عرب کی منال الشریف، سویڈن کے غیر ملکی پالیسی کی ممبر ‘مارگوٹ وال سٹروم ، ہینڈی اریاری، زائیو یانگ، زِیہیا، ترک ناول نگار اسلی اردوگان ، ایلس سکورزر، لیزیزیا بٹگلیا اور سینا نورہ شامل ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top