پاناما کیس، وزیراعظم کےبچوں نے دستاویزی ثبوت سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے -
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس، وزیراعظم کےبچوں نے دستاویزی ثبوت سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے

اسلام آباد : پاناما لیکس کیس میں وزیراعظم کے بچوں نے دستاویزی ثبوت سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس پر وزیراعظم کے بچوں مریم نواز ، حسین نواز اور حسن نواز نے سپریم کورٹ میں دستاویزی ثبوت اور شواہد پیش کردیئے، عدالت کوپیش کی گئی دستاویزمیں انیس سو اٹہترمیں زمین لیز کے ثبوت اور شیئر فروخت کے معاہدے منسلک کئے گئے ہیں۔

گلف اسٹیل کی افتتاحی تقریب کی تصاویر سمیت دبئی میونسپلٹی کا جاری کردہ لائسنس اور پارٹنر شپ ایگریمنٹ کو بھی ثبوتوں کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ نیسکول اور نیلسن انکارپوریٹ کمپنیز ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزدی مریم نواز نے دستاویزی ثبوت اور شواہد عدالت میں جمع کرادیئے، دستاویز کے مطابق مریم صفدر دوہزار چھ سے حسین نواز کی آف شور کمپنیز کی ٹرسٹی ہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں 2011 کےبعد کی تفصیلات موجود ہیں اور اس کے علاوہ ٹیکس ادائیگی، فیکٹریوں، زمینوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں اور حسین نواز کمپنیوں کے مالک ہیں۔

عدالت میں جمع کرائے گئے شواہد کے مطابق ٹرسٹ کوومبر گروپ، نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن لمیٹڈ کے حوالے سے قائم کیا گیا، دو فروری دو ہزار چھ کو ہونے والے معاہدے کے مطابق مریم صفدر کے انتقال یا معذوری کی صورت میں بینیفشری حسین نواز ٹرسٹی کے تمام شیئرز کے مالک بن جائیںگے۔

دستاویزات کے مطابق حسین نواز کے انتقال کی صورت میں مریم صفدر کو کمپنی کے تمام شیئرز فروخت کرنے کا اختیار ہوگا، ٹرسٹی واجب الادا قرض کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والی رقم شرعی قوانین کے مطابق تقسیم کرنے کی پابند بھی ہوں گی۔


مزید پڑھیں : حسن اور حسین نواز کو جمعرات تک دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت


اس سے قبل سپریم کورٹ نے حسن اور حسین نواز کو جمعرات تک دستاویزات جمع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

سماعت میں چیف جسٹس نے کہا کہ 1947ءسے تحقیقات شروع ہوں تو20سال لگیں گے۔انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ کرپشن کی تحقیقات سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے اگرکسی نے کرپشن کی ہے تو نیچے عدالتیں موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کواسکین کرلیں،نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں