The news is by your side.

Advertisement

مریم نواز نے نواز شریف کو اے پی سی میں کیے جانے والے فیصلوں سے آگاہ کردیا

لاہور : مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد نوازشریف سے ملاقات کی اور اسلام آباد اے پی سی میں کیے جانے والے فیصلوں سے انھیں آگاہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید نوازشریف سے ملاقات کا دن ہے ، مریم نواز اپنے والد سے ملاقات کے لیے جیل پہنچ گئیں، اس موقع پر لیگی کارکنوں نےمریم نواز کے حق میں نعرے لگائے اور پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کیں۔

نواز شریف سے مریم نواز نے دادی اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ ملاقات کی، ملاقات تقریبا دو گھنٹے جاری رہی اور نواز شریف نے دوپہرکا کھانا فیملی کے ساتھ کھایا۔

ذرائع کے مطابق مریم نواز نے ملاقات میں نواز شریف کو اسلام آباد اے پی سی میں کیے جانے والے فیصلوں سے نواز شریف کو آگاہ کیا۔

جیل انتظامیہ نے ن لیگ کے کسی رہنما اور کارکن کو نواز شریف سے ملاقات کے لیے اجازت نہیں دی اور نہ ہی ن لیگ کا کوئی اہم رہنماء یا منتخب نمائندہ کوٹ لکھپت جیل کے باہر پہنچا۔

گذشتہ روزمسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اے پی سی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  تھا کہ پوری پارٹی کا نواز شریف اور شہباز شریف پر بھرپور  اعتماد ہے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف تو کرسکتے ہیں، فیصلہ لیڈر شپ کا ہوتا ہے جو خوش دلی سے قبول ہوتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ اس حکومت کو قبول نہیں کرنا چاہئے، جتنے دن حکومت رہے گی ملکی صورت حال دگرگوں رہے گی، خدا نخواستہ   ایسا نہ ہو پاکستان پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ جائے۔

مزید پڑھیں : میاں صاحب سےاگلی ملاقات میں آگےکی ڈائریکشن لوں گی

یاد رہے چند روز قبل  سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں نوازشریف کوانصاف دلانےتک آخری حدتک جاؤں گی ، نوازشریف کو کچھ ہوا تو معاملے میں شامل افراد سب ذمہ دار ہوں گے، میاں صاحب کو مرسی نہیں بننےدیں گے۔

نائب صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا نوازشریف سےفیملی اورجماعت کےلوگوں کی ملاقات پر پابندی لگادی گئی، فون آیا خونی رشتہ رکھنے والے صرف نوازشریف سےمل سکتےہیں، شہبازشریف اورمجھےملاقات کی اجازت دی گئی، نوازشریف کی بہن گیٹ سےواپس گئیں،والدہ ملاقات نہ کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا  عدل اورعدالت کادروازہ کھٹکھٹارہےہیں امیدہےایک دن انصاف ملےگا، میاں صاحب سےاگلی ملاقات میں آگےکی ڈائریکشن لوں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں