The news is by your side.

Advertisement

مسجدِ غمامہ جہاں رسول اللہ نے نمازِ عید کی امامت فرمائی

اسلام کے اوّلین دور کی مساجد میں ‘‘الغمامہ’’ کو یہ فضیلت و مرتبہ حاصل ہے کہ نبی کریمﷺ نے یہاں نہ صرف نمازِ عید کی امامت فرمائی بلکہ اسی جگہ نمازِ استسقا بھی پڑھائی تھی جس کے ساتھ ہی بادل آئے اور بارش شروع ہو گئی۔ لوگوں نے اسی مناسبت سے مسجد کو غمامہ کہنا شروع کردیا جس سے مراد بادل، ابر ہے۔

عرصے تک بارش نہ ہو اور زمین کے خشک ہونے اور اس کی وجہ سے انسانوں، فصلوں اور دیگر نقصانات کا خدشہ ہو تو مسلمان اس نماز کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے رب کے حضور گڑ گڑا کرفریاد کرتے ہیں کہ وہ اپنی رحمت اور نعمت نازل کرے۔ رسول اللہﷺ نے متعدد مرتبہ بارش کی دعا کی ہے۔

علما اور مسلمان اسکالرز کے مطابق یہی وہ مقام بھی ہے جہاں رسول اللہﷺ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا فرمائی تھی۔

یہ مسجدِ نبوی سے جنوب مغرب کی طرف محض چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اب ایک مقدس و متبرک یادگار کے طور محفوظ ہے۔ اس مسجد کے دو حصّے ہیں۔ ایک داخلی جس کے بعد دوسرا مرکزی حصّہ ہے جس میں نماز ادا کی جاتی تھی۔ ایک جانب چھت پر پانچ گنبد ہیں۔ مسجد کا رقبہ تیس میٹر اور چوڑائی پندرہ میٹر ہے جب کہ مستطیل شکل کی کھڑکیاں اور روشن دان بھی نکالے گئے ہیں۔ جنوبی دیوار کے وسط میں محراب اور محراب کے ساتھ سنگِ مرمر کا منبر ہے جس کی نو سیڑھیاں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں