تازہ ترین

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی توقع

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ...

اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ

امریکی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آرہا...

روس نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی حمایت کردی

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غزہ کی صورتحال کے...

سدا بہار فلمی گیت اور لازوال ملّی نغمات کے خالق مسرور انور کا تذکرہ

مسرور انور کا نام پاکستان کے ان نغمہ نگاروں میں شامل ہے جن کے تحریر کردہ فلمی گیت ہی نہیں ملّی نغمات بھی لازوال ثابت ہوئے۔ آج مسرور انور کی برسی منائی جارہی ہے۔

مسرور انور کا یہ فلمی نغمہ آج بھی سماعتوں میں‌ رس گھول رہا ہے، جس کے بول ہیں "یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی۔” اور اسی طرح‌ درجنوں فلمی نغمات مسرور انور کی تخلیق ہیں جو آج بھی دلوں‌ میں‌ گداز پیدا کرتے ہیں اور جذبات کا طوفان اٹھا دیتے ہیں‌۔ مسرور انور شاعر ہی نہیں‌ فلم نویس بھی تھے۔

5 جنوری 1944 کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر شملہ میں پیدا ہونے والے مسرور انور نے 1962 میں اپنی پہلی فلم بنجارن کے گیت لکھے۔ اس آغاز کے بعد انھیں‌ اصل شہرت وحید مراد کی فلم ہیرا اور پتھر کے گیتوں سے ملی جس کے بعد شاعر مسرور انور کے زیادہ تر نغمات گلوکار احمد رشدی اور سہیل رعنا کی آواز میں‌ سپر ہٹ ثابت ہوئے۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران مسرور انور نے اپنے ملّی نغمات سے پوری قوم کا لہو گرما دیا۔ ان کا یہ نغمہ "اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں” مہدی حسن کی آواز میں‌ گونجا اور پاکستان کا مقبول ترین ملّی گیت "سوہنی دھرتی اللہ رکھے” ناقابلِ فراموش ثابت ہوا۔

مسرور انور نے 1966 میں ریلیز ہونے والی فلم ارمان کے نغمات لکھ کر زبردست کام یابی سمیٹی تھی اور اس فلم کا ہر گیت سپر ہٹ تھا جن میں اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم… اور کوکو کورینا جیسے گیت شامل تھے۔ اس کے علاوہ ہاں اسی موڑ پر، اس جگہ بیٹھ کر، اور ایک نئے موڑ پر لے آئے ہیں حالات مجھے… نے بھی مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوا۔ مسرور انور نے نثار بزمی جیسے موسیقار کے ساتھ بھی کام کیا اور ان کی جوڑی بہت مقبول ہوئی۔ فلم لاکھوں میں ایک کا گیت "چلو اچھا ہوا تم بھول گئے”، فلم صاعقہ کا "اک ستم اور میری جاں ابھی ہے،” اور فلم عندلیب کا یہ رومانوی گیت "کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے” کون بھول سکتا ہے۔ یہ گیت بھی مسرور انور کی یاد دلاتے رہیں گے۔

مسرور انور نے شاعری، فلمی کہانیاں اور مکالمے تحریر کرنے کے علاوہ چند فلموں کے لیے ہدایات بھی دیں۔ ان کی ایک فلم سوغات کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی کام یاب فلم کہا جاتا ہے۔ مسرور انور کو سات نگار ایوارڈز کے علاوہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی بھی دیا گیا تھا۔ معروف شاعر اور اسکرپٹ رائٹر مسرور انور یکم اپریل 1996 کو مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال کرگئے تھے۔

Comments

- Advertisement -