سائنس نے نانی امی کی محبت کی تصدیق کردی -
The news is by your side.

Advertisement

سائنس نے نانی امی کی محبت کی تصدیق کردی

ہمارے اردگرد موجود بڑوں کی یاد میں نانی امی اور دادی امی کا کردار بہت خاص ہے جو انہیں کہانیاں سنایا کرتی تھیں اور امی ابو سے چھپ کے مزیدار چیزیں کھانے کو دیا کرتی تھیں، تاہم نئی نسل میں یہ کردار اس طرح سے موجود نہیں جس طرح پہلے موجود ہوا کرتا تھا۔

بدلتے ہوئے وقت اور تیز رفتار زندگی نے جہاں ہمیں بے شمار آسائش و آسانیاں بخشی ہیں وہیں بہت سے قریبی رشتے بھی ہم سے دور کردیے ہیں جن میں سے ایک رشتہ نانی اور دادی امی کا بھی ہے۔

ایک سائنسی تحقیق کے مطابق نانی امی اور نواسے نواسیوں میں بہت مضبوط تعلق ہوتا ہے جو کم ہی کسی دوسرے رشتے میں پایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: بچوں کی ذہانت والدہ سے ملنے والی میراث

تحقیق میں بتایا گیا کہ بچے جینیاتی طور پر اپنے باپ کے والدین یعنی دادا اور دادی کی بہ نسبت ماں کے والدین یعنی نانا خصوصاً نانی سے زیادہ مشابہہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نانی اور نواسے نواسیوں میں کئی جینز ایک جیسی ہوتی ہیں جو ان کے درمیان موجود تعلق کو مضبوط کرتی ہیں۔

امریکی یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق نانی اپنے بیٹے کی نسبت بیٹی کی اولادوں سے زیادہ قربت محسوس کرتی ہیں۔ چونکہ وہ اپنی بیٹی کے بچوں کو جنم دینے کی تکلیف کو زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہیں لہٰذا قدرتی طور پر وہ اپنے نواسے اور نواسیوں سے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ نانی کی نسبت نانا میں اپنے نواسوں سے اس قدر انسیت پیدا نہیں ہوتی جبکہ بچے بھی نانی سے زیادہ محبت محسوس کرتے ہیں۔

آپ اپنی نانی امی سے کتنی محبت کرتے ہیں؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں