The news is by your side.

Advertisement

مولانا عادل قتل کیس میں اہم پیشرفت

کراچی: شہر قائد میں جاں بحق ہونے والے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان پر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق تفتیشی حکام نے انکشاف کیا کہ قتل کی واردات میں نیا اور ایک اسلحہ استعمال ہوا، فائرنگ 8 فٹ کی دوری سے کی گئی۔

تفتیشی حکام کے مطابق حملہ کرنے والے ملزمان کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔

دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جن سے اب مولانا عادل خان قتل کے حوالے سے تفتیش کی جائے گی۔

پولیس نے عینی شاہدین کے بیان ریکارڈ کرلیے جبکہ جائےواردات کی جیو فینسنگ مکمل کرلی گئی۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ مولانا عادل خان کے بیٹے کے بیان کی روشنی میں مقدمے کا اندراج کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مولانا عادل کی ٹارگٹ کلنگ فرقہ وارانہ لگتی ہے: پولیس حکام

یہ بھی پڑھیں: مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کون تھے؟

یاد رہے کہ گزشتہ شام ساڑھے سات بجے کے قریب شاہ فیصل کالونی نمبر 2 مولانا عادل کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں جامعہ فاروقیہ کے مہتمم اور ڈرائیور شدید زخمی ہوئے تھے، دونوں اسپتال منتقلی سے قبل ہی دم توڑ گئے تھے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیراعظم پاکستان سمیت دیگر اہم شخصیات نے مولانا عادل کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور قاتلوں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے قتل کی حالیہ واردات کے بعد مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے کراچی میں آئندہ ایک ماہ تک ڈبل سواری پر فوری پابندی عائد کردی۔ صحافیوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو پابندی سے مستشیٰ قرار دیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں