تازہ ترین

سیکیورٹی فورسز کا بونیر میں آپریشن، دہشت گرد سلیم عرف ربانی مارا گیا

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بونیر میں انٹیلی جنس...

کوئٹہ: تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے گئے 9 مسافر قتل

کوئٹہ:نوشکی کے قریب تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے...

بہاولنگر واقعے کی مشترکہ تحقیقات ہوں گی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بہاولنگر...

عیدالفطر پر وفاقی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت نے...

ایشیائی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں آئندہ مالی سال...

مولانا طارق جمیل تعزیت کیلیے شہید ارشد شریف کے گھر پہنچ گئے

معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل اے آر وائی نیوز کے شہید صحافی ارشد شریف کے گھر اظہار تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔

معروف مذہبی رہنما مولانا طارق جمیل شہید صحافی ارشد شریف کے گھر پہنچے اور اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا، مولانا طارق جمیل کے ہمراہ ان کے اہلخانہ و قریبی ساتھی بھی موجود ہیں۔

انہوں نے شہید صحافی کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

مولانا طارق جمیل نے شہید ارشد شریف کے بیٹے سے ملاقات کی جبکہ ان کے ساتھ موجود دیگر لوگوں نے اہلخانہ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے والد جو کام کرگئے اس کے لیے تو ہم دعائیں کرتے رہتے ہیں شہادت کا ایسا درجہ اگر ہمیں ملتا تو ہم خوش نصیب ہوتے۔

یہ پڑھیں: ’پیارے اباّ میں ہر روز آپ کو یاد کرتی ہوں‘: شہید ارشد شریف کی بیٹی کا والد کے نام خط

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں شہید صحافی ارشد شریف کی بیٹی نے بابا کے نام خط میں کہا کہ ’پیارے ابا مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے آپ کو ہم سے بچھڑے ہوئے، آپ کے ساتھ جو ہوا  بہت غلط ہوا ، سچ بولنے کی یہ قیمت نہیں ہونی چاہئے، کرپشن خلاف بولنے کی یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔

شہید صحافی کی کمسن بیٹی نے لکھا کہ ’اباّ اپنے ملک سے اتنی محبت کہ اپنے آپ اور اپنے خاندان سے بھی زیادہ ہو، اس کی یہ سزا تو نہیں ہونی چاہئیے، میں سوچتی ہوں آپ کو صرف بولنے کی اتنی سزا دی گئی، وہ لوگ سچے ہوتے تو جواب دیتے ،آپ کا منہ بند نہ کراتے اور یہ نہ کرتے۔

خط میں بیٹی نے بتایا کہ جب بھی آپ سے کوئی کہتا تھا کہ بولنے سے پہلے اپنے بچوں کا تو سوچ تو آپ کہتے تھے میرے بچوں کو اللہ پالے گا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by ARY News (@arynewstv)

ان کی بیٹی خط میں لکھا کہ اباّ اب تک جتنے لوگ بھی آئے یہی کہہ رہے تھے کہ اللہ ایسی شہادت سب کو دے لیکن میں یہ کہنا چاہوں گی کہ اللہ نے شہادت تو دی مگر وقت کے فرعونوں نے بہت ظلم کیا ایسا ظلم کسی کو بھی نہ سہنا پڑے۔

یاد رہے کہ پی ایف یو جے نے 2 نومبر کو صحافیوں کیخلاف تشدد کے عالمی دن کو شہید ارشد شریف کے نام کیا ہے۔

علاوہ ازیں 26 نومبر کو شہید ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے ، جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دینے اور عالمی عدالت سےرجوع نہ کرنے کے معاملے پر صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف کو خط ارسال کیا گیا تھا۔

خط اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے صدر مملکت اوروزیراعظم کوبھجوایا تھا ، جس میں کہا گیا تھا کہ ارشدشریف کا کینیا میں قتل قابل مذمت واقعہ ہے، واقعے کی شفاف تحقیقات ہونا قانونی تقاضا ہے۔

صدر اور وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی آر کا اندراج جرم کی کھوج کے لئے بنیادی اقدام ہے، کینیا کی حکومت بری طرح بے نقاب ہوچکی ہے، معاملہ حساس اور تحقیقات کا متقاضی ہے۔

خط میں کہا گیا تھا کہ معاملے پرعالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے، اگر قانونی تقاضے پورے نہ ہوئے توعدلیہ سے رجوع کیا جائے گا۔

 24 اکتوبر کو اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’پاور پلے‘ کے اینکر اور معروف صحافی ارشد شریف کو کینیا میں شہید کردیا گیا تھا۔

Comments

- Advertisement -
عبدالقادر
عبدالقادر
عبدالقادر پچھلے 8برس سے اے آر وائی نیوز میں بطور سینئر رپورٹر خدمات انجام دے رہے ہیں، آپ وزیراعظم عمران خان اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سے جڑی خبروں اور سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔