The news is by your side.

انوکھا واقعہ : جیل میں قید بے گناہ ملزم 38 سال بعد رہا

لاس اینجلس : امریکہ کی جیل میں قید ایک بے گناہ شہری کو38 سال بعد انصاف مل گیا، دہرے قتل کے ملزم کو ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کے بعد رہا کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے ایک کاؤنٹی ضلعی اٹارنی نے بتایا کہ 59سالہ قیدی ماؤرائس ہیسٹنگ کو 1983 میں قتل کے ایک اور اقدام قتل کے دو الزامات کے تحت سزا سنائی گئی تھی تاہم اس مقدمے میں ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ڈی این اے کے ٹیسٹ رپورٹ سے معلوم ہوا کہ یہ جرائم دراصل کسی اور شخص نے کیے جو دیگر الزامات کے تحت قید پہلے سے جیل میں تھا اور دو برس قبل فوت ہوچکا ہے، تاہم اس قیدی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

استغاثہ کی جانب سے عدالت سے ماؤرائس ہیسٹنگ کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کی درخواست کی گئی تھی، اس حوالے سے کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی، لاس اینجلس کے پروجیکٹ سے منسوب وکلا بھی پیش پیش تھے۔

گزشتہ روز رہائی کے بعد ہیسٹنگ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میں کئی برسوں سے اس دن کے لیے دعا کرتا رہا ہوں۔ مجھے کسی پر الزام نہیں لگانا اور نہ میں کوئی کڑوی بات کرنا چاہتا ہوں، اب مجھے جو زندگی ملی ہے میں اسے جینا چاہتا ہوں۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی جورج گیسکن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیسٹنگ کے ساتھ شدید نوعیت کی ناانصافی ہوئی ہے، نظام انصاف کامل نہیں ہے اور جہاں ہم نئے شواہد کی بنیاد پر کچھ نیا سیکھتے ہیں، جس سے کسی کے جرم کی صحت سے متعلق سوال پیدا ہو رہے ہیں، تو ہم پر لازم ہے کہ ہم فوری طور پر آگے بڑھیں۔

ہیسٹنگ کو روبیرٹا ویڈرمیئر پر جنسی حملے اور سر پر گولی مار کر قتل کرنے کا الزام تھا۔ مقتولہ کی لاش لاس اینجلس کے نواح میں کھڑی گاڑی کے ٹرنک سے ملی تھی۔

ہیسٹنگ کو اس قتل کرنے کے الزام کا سامنا تھا اور اس کے لیے اٹارنی کی جانب سے موت کی سزا کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اس سلسلے میں جیوری اختلاف کا شکار رہی۔

سال 1988 میں اس مقدمے کی دوسری جیوری نے ہیسٹنگ کو مجرم قرار دیا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی اور اس میں پیرول پر رہائی کا کوئی امکان نہ رکھا گیا۔

ہیسٹنگ اپنی گرفتاری سے لے کر قید تک مسلسل اصرار کرتے رہے کہ وہ بے قصور ہیں، مقتولہ کی آٹوپسی کے ذریعے پتا چلا تھا کہ اسے جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

ہیسٹنگ نے سن دو ہزار میں اس بابت ڈسٹرکٹ اٹارنی دفتر سے ڈی این اے ٹیسٹنگ کی استدعا کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔

گزشتہ برس ہیسٹنگ نے ایک مرتبہ پھر اپنے بے قصور ہونے کا دعویٰ دائر کیا اور گزشہ برس جون میں ڈی این اے ٹیسٹنگ سے ثابت ہوا کہ مقتولہ کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے کے نمونے ہیسٹنگ کے نہیں بلکہ ایک اور مقدمے میں قید رہنے اور پھر فوت ہونے جانے والے ایک اور مجرم کے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں