The news is by your side.

Advertisement

کراچی سرکلر ریلوے کو فوری طور پر بحال کیا جائے، وسیم اختر

کراچی: میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کے ایم سی کے 14 اسپتال ہیں، 90 فیصد مریضوں کا علاج کے ایم سی اسپتالوں میں ہوتا ہے، ہمارے پاس اسپتال کی مشینوں کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

وسیم اختر نے کہا کہ صنعتکار پیسے نہ دیں بلکہ مشینیں خرید کر دیں، میرے ساتھ آئیں اسپتال کو چلانے کے لیے میرا ساتھ دیں، عوام کے لیے ادویات، مشینری کی خریداری میں تعاون درکار ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں کتے کے کاٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، کتے کا معاملہ ڈی ایم سیز کا ہے، پورے سندھ میں اینٹی ریبیز انجکشن دستیاب نہیں ہیں، کراچی جیسے شہر میں 150 افراد کو کتے کاٹنے کے واقعات ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی کے3 کروڑ شہری مشکل میں ہیں ، کوئی پرسان حال نہیں، میئر کراچی وسیم اختر

انہوں نے کہا کہ کراچی میں موجودہ صورت حال بہت سنجیدہ ہے، بیرون ملک سے درآمد سامان کراچی کی سڑکوں سے ملک میں سپلائی ہوتا ہے، لوکل گورنمنٹ کو فضائی اور سمندری راستوں سے درآمد سامان پر ٹیکس کا حق ہے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ درآمدی سامان پر ایک فیصد ٹیکس لینے کا اختیار دیتا ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی سے اپیل ہے ٹیکس وصولیوں میں مدد کرے، کراچی کی 109 سڑکیں، انڈر پاس اور بریج کی ذمہ داری میری ہے، ٹول ٹیکس کی بات کرو تو تمام پیسہ سندھ حکومت لے جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر بتایا جاتا ہے کہ اتنے اربوں وسیم اختر کو کراچی کے لیے دیا جاتا ہے، ہمارا آدھے سے زیادہ فنڈ تنخواہ اور پنشن میں چلا جاتا ہے، کے ایم سی کے 13 ہزار ملازمین ہیں ان میں کوئی گھوسٹ ملازم شامل نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں