The news is by your side.

Advertisement

میرے پاس مشینری نہیں شہر کا کچرا نہیں اٹھا سکتا: وسیم اختر

کراچی: میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ میں شہر کا کچرا نہیں اٹھا سکتا کیوں کہ میرے پاس مشینری اور دیگر آلات نہیں ہیں، کراچی کا مینڈیٹ میرے پاس جبکہ اختیارات کسی اور کے پاس ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے ما تحت 13 اسپتال ہیں جہاں دوائیوں کے پیسے نہیں، ملازمین کی تنخواہوں کا پیسہ کہیں اور نہیں لگا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے ایک ہفتے میں کراچی سے کچرا اٹھانے کے حکم پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے استعمال میں لائیں گے، حکومت کو سمری بھیجی ہے، منظور ہوگئی تو کرائے پر کچھ مشینریز لیں گے اور کچھ خریدیں گے۔

مجھے ایک ہفتے میں کراچی صاف چاہیے‘ چیف جسٹس

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ ججز نے خود بھی جانتے ہیں کہ میرے پاس اختتارات نہیں، عدالت کی جانب سے مجھے کہا گیا کہ تم میئر ہو، کچرا اٹھانے کے لیے کچھ نہ کچھ کوشش کرو، 10 سال تک جان بوجھ کر کراچی میں کچرا جمع ہونے دیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سالڈویسٹ مینجمنٹ بورڈ کچرا اٹھانے کا ذمہ دار ہے میں نہیں، سربراہ واٹر کمیشن سالڈویسٹ مینجمنٹ بورڈ سے متعلق فیصلہ کریں گے، مینجمنٹ پورے سندھ کو دیکھتا ہے سوچیں وہاں کیا حال ہوگا۔

جو افسران سیاست کرنا چاہتے ہیں وہ نوکری چھوڑ دیں، میئر کراچی

خیال رہے کہ آج سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں واٹر کمیشن کی عبوری رپورٹ پر سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے میئر وسیم اختر کو ایک ہفتے کہ اندر شہر سے کچرا صاف کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں