The news is by your side.

Advertisement

ماہرہ قتل کیس: آئی جی پنجاب کا بڑا اقدام

لاہور: پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی مائرہ ذوالفقار کے قتل کیس میں اٹھارہ روز بعد بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی، تاہم آئی جی پنجاب نے سی سی پی او سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقتولہ کے والد نے پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس پر آئی جی پنجاب نے لاہور پولیس کو ناقص تفتیش پر ریکارڈ سمیت طلب کیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے سی سی پی او،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ،متعلقہ ایس ایچ او اور تفتیشی ٹیم کو اب تک کی پیشرفت میں طلب کر لیا ہے۔

مائرہ قتل کیس میں 18 روز بعد بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی، آئی جی پنجاب نے سی سی پی او سے ریکارڈ طلب کر لیا۔

مقتولہ کے والد کیجانب سے بھی ملزمان کی عدم گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، گذشتہ روز دئیے گئے بیان میں مقتولہ مائرہ ذوالفقار کے والد ذوالفقار علی نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزمان کو بلا کر ان سے بیان لیکرچھوڑدیاجاتاہے۔

یہ بھی پڑھیں: مائرہ قتل کیس کا مرکزی ملزم سعد امیر بٹ گرفتار

مائرہ کے والد نے الزام عائد کیا تھا کہ سجل کو بلوا کر سیاسی دباؤ پر اس کو چھوڑ دیا گیا، میری بیٹی نانی کے پاس جاناچاہتی تھی سجل نے روک لیا، سجل سے پوچھاجائے کیوں روکا اورآخری وقت تک سجل ساتھ تھی، ذوالفقار علی نے مطالبہ کیا تھا کہ میری مددکی جائے اور میری بیٹی کےقاتلوں کوگرفتار کیا جائے۔

ماہرہ ذوالفقار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ

دو روز قبل ماہرہ ذوالفقار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مائرہ کو منہ اور گردن پر گولی مار کر قتل کیا گیا تاہم زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔

ویمن میڈیکل آفیسرڈاکٹرسعدیہ انجم کا کہنا تھا کہ مائرہ کی گردن پرپھندے کا نشان پایا گیا جبکہ گردن، بازوں اور دونوں ہاتھوں پر خراشیں بھی پائی گئیں، بال کھینچنے سے سر پر بھی سوجن تھی جبکہ منہ پر گولی لگنے سے دانت بھی ٹوٹےہوئے تھے۔

واضح رہے کہ تین مئی کو لاہور کے علاقے ڈيفنس میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری 26 سالہ لڑکی مائرہ ذوالفقار اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھی، پولیس نے لڑکی کے قتل کے شبے میں دو نامزد ملزمان سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں