The news is by your side.

Advertisement

نام وَر مترجم، افسانہ اور ناول نگار مظہر الحق علوی کا تذکرہ

اردو کے نام ور مترجم، افسانہ نگار اور عالمی ادبیات کے نباض مظہر الحق علوی نے 17 دسمبر 2013ء کو اپنی زندگی فرشتہ اجل کے ہاتھوں‌ میں‌ دے دی تھی۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔ انھوں نے سات عشروں تک اپنے فن اور جوہرِ تخلیق سے اردو ادب کی آب یاری کی۔

مظہر الحق علوی کا تعلق ہندوستان سے تھا۔ انھیں زیادہ شہرت عالمی ادب کی شاہ کار کہانیوں کے تراجم کی بدولت ملی۔ تاہم افسانہ و ڈراما نگاری اور ادبِ اطفال بھی ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا نمونہ ہیں۔ انھوں نے انگریزی ادب کے تقریباً 100 ناولوں کو اردو کے قالب میں نہایت خوبی سے ڈھالا۔

مظہر الحق علوی نے انگریزی زبان کے علاوہ گجراتی کے مقبول ادب پاروں کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ انھوں نے ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے ساتھ فروغِ ادب کے لیے فعال کردار ادا کیا۔

فرانس کے مشہور زمانہ ناول نگار الیگزنڈر ڈوما کے ناول “دی کاؤنٹ آف مونٹے کرسٹو” کا ترجمہ “ظلِّ ہما” کے نام سے، برام اسٹوکر کے “ڈریکولا” کا ترجمہ، میری شیلے کے ناول “فرنکنسٹائن” اور سر رائڈر ہیگرڈ کے متعدد ناولوں کے نہایت عمدہ اردو تراجم مظہر الحق علوی کے اس فن میں‌ مہارت اور ان کی قابلیت و اسلوب کے یادگار ہیں۔

وہ احمد آباد میں‌ مقیم تھے جہاں ایک لائبریرین کی حیثیت سے ملازمت کی اور اس دوران لکھنے پڑھنے اور مطالعے کا شوق پورا کرنے کے ساتھ ساتھ تخلیقی کام کی طرف راغب ہوئے۔ مظہر الحق علوی 90 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں