The news is by your side.

Advertisement

ملیر میں جعلی ہاؤسنگ اسکیمیں اور گوٹھوں کو مسمار کرنے کا فیصلہ

کراچی : سرکاری زمینوں پر جعلی ہاؤسنگ اسکیمیں اور گوٹھوں کو مسمار کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، ڈپٹی کمشنر ملیر نے لینڈ گریبرز کی لسٹیں طلب کرنے کیلئے خط لکھ دیا۔

ڈپٹی کمشنر ملیر کا کہنا ہے کہ 30سالہ لیز پر دی گئی زمین پر ہاؤسنگ اسکیم یا گوٹھ بنانا غیرقانونی ہے، ملیر میں زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمز اور گوٹھ بنائے گئے ہیں جوغیرقانونی ہیں۔

ڈی سی کے مطابق جعلی ہاؤسنگ اسکیمز اور گوٹھوں کو مسمار اور ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے گا، ڈی سی ملیر نے ہاؤسنگ اسکیم اور گوٹھ بنانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا حکم دے دیا۔

ڈی سی ملیر نے مختیار کارز اور پولیس حکام کے نام لکھے گئے خط میں ہدایات دی ہیں کہ قبضہ کی گئی صوبائی اور وفاقی زمینیں خالی کروائی جائیں۔

ڈپٹی کمشنر ملیر نے کہا کہ ضلع ملیر میں ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین قبضہ مافیا سے واگزار کروالی گئی ہے، مزید کاروائیاں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ ہائیکورٹ جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ایم ڈی اے اراضی پر جعلی گوٹھوں کے خلاف ایم ڈی اے کے الاٹیز اور گوٹھوں کے متاثرین کی درخواستوں کی سماعت کی تھی۔

سندھ ہائیکورٹ نے ملیر کی زمینوں پر قائم تمام جعلی گوٹھوں کو ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ جعلی گوٹھوں کے نام پر سرکاری زمینوں پر قبضوں سے واضح طور پر ایم ڈی اے کی نااہلی نظر آرہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ قبضے ہو رہے ہوں اور ایم ڈی اے خاموش رہے، نااہلی کے ساتھ بدعنوانی کا معاملہ بھی ہے، جعلی سندیں لے کر قبضہ مافیا گوٹھ بنا رہی ہے۔

عدالت نے ایم ڈی اے کو حکم دیا تھا کہ تمام جعلی گوٹھ ختم کرائیں اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں