The news is by your side.

Advertisement

میڈیکل کالج داخلہ ٹیسٹ منسوخ، عدالت کا اکیڈمک بورڈ اور اتھارٹی بنانے کا حکم

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے وفاق اورسندھ کے درمیان جاری میڈیکل کالجز میں داخلے کا ٹیسٹ منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق  وفاق اور صوبے کے درمیان ایم بی بی ایس میں داخلے کےلئے انٹری ٹیسٹ تنازع کے حوالے سے دائر درخواست پرسندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

جج نے سماعت کے آغاز پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکیل کو روسٹروم پر بلا کر مؤقف پیش کرنے کا حکم دیا۔  پی ایم سی کے وکیل صفائی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے انٹری ٹیسٹ 15 نومبر کو لیا جارہا ہے۔

فاضل جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ امتحانی مراکز کہاں قائم کیے گئے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ 200 سینٹر زقائم کیے گئے ہیں جبکہ خواہش مند طالب علموں کو رول نمبر بھی جاری کیے گئے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے پی ایم سی کے وکیل سے سوال کیا کہ ’کیا طالب علموں کو امتحانی مراکز کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے؟‘۔

این ٹی ایس وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’ہمیں امتحانی مراکز کے حوالے سے کوئی علم نہیں، بچوں کو میسج کے ذریعے مراکز کا بتایا جارہا ہے، کچھ طلبہ کو صرف ایڈمٹ کارڈ سے متعلق ہی آگاہ کیا گیا‘۔

این ٹی ایس وکیل نے بتایا کہ ’پہلا ٹیسٹ 18 اکتوبرکو تھاجو عدالت کےحکم سےمنسوخ  کیا گیا، ٹیسٹ کی منسوخی سے ہمیں معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہم نے تمام انتظامات مکمل کرلیے تھے، جو نقصان ہوا عدالت اس کا معاوضہ دلوائے‘۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکیل نے بتایا کہ ’ٹیسٹ کے لیے اسکول اور کالجز میں سینٹرز بنائے گئے ہیں، ایس ایم ایس کے ذریعے بتایا گیا ہے، طلبہ کو ایڈمٹ کارڈ مل چکے ہیں‘۔

سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا مختصر فیصلہ محفوظ کیا جسے اب سے کچھ دیر قبل جاری کیا گیا۔

عدالت نے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے تحت 15 نومبر کو منعقد ہونے والے انٹری ٹیسٹ منسوخ کرنے کا حکم دیا جبکہ 15 روز میں اکیڈمک بورڈ اور اتھارٹی بنانے کا بھی حکم جاری کیا۔

عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’اکیڈمک بورڈ10دن میں سلیبس تیار کرے کیونکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے تیار کردہ سیلیبس سے طلبہ تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوئے‘۔

یاد رہے کہ سندھ کی 5 جامعات اور طلبہ نے یکساں ٹیسٹ کے قانون کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ٹیسٹ کے لیے 15 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں