The news is by your side.

Advertisement

کمر درد کی دوائیں کھانے والے ہوشیار

کمر درد ایک عام مرض بن چکا ہے جس سے نجات کے لیے لوگ ادویات کا استعمال کرتے ہیں، لیکن اب ان دواؤں کا ایک بدترین نقصان سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق سائنس دانوں نے کہا ہے کہ درد کش اور سوزش (انفلیمیشن) کم کرنے والی دوا بعض حالات میں شدید نقصان دہ ثابت ہو کر درد کو دائمی عارضے میں بدل سکتی ہیں۔

مک گل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس ضمن میں کمر کے نچلے حصے کے درد میں مبتلا بعض مریضوں کا جینیاتی جائزہ لیا ہے، ماہرین نے سب سے پہلے درد سے شفا پانے والے مریضوں کے جسم میں ہر جگہ موجود دفاعی نظام اور اس سے وابستہ خلیات کا جائزہ لیا۔

تحقیق میں کہا گیا کہ دیرینہ درد میں مبتلا مریضوں کے بدن میں بھی یہی جین غیر سرگرم اور خوابیدہ تھے، سائنس دانوں نے درد میں مبتلا اور درد سے نجات پانے والے افراد کے جین، امنیاتی نظام، خون کی کیفیات اور بائیو مارکرز کا بغور جائزہ لیا، ان میں سب سے خلیات کو نیوٹرو فیلس کا نام دیا گیا تھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ اینٹی انفلیمنٹری ادویات جو کمر کے نچلے حصے میں درد کے لیے عام استعمال ہوتی ہیں وہ درحقیقت خلوی اور جینیاتی سطح پر درد کو طویل مدت تک بڑھاوا دے سکتی ہیں۔

اس کی تصدیق کے لیے چوہوں کے ماڈل کو کمر کے نچلے درجے کے حصے کا مریض بنایا گیا، پھر انہیں روایتی دوائیں دی گئیں جو ہم بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایسے چوہوں کا درد وقتی کم ہوا لیکن بعد میں شدید اور مزید دیرینہ مرض میں بدل گیا جبکہ دیگر دواؤں سے یہ کیفیت سامنے نہیں آئی۔

چنانچہ ثابت ہوا کہ حیرت انگیز طور پر بعض درد کش ادویات وقتی فائدہ پہنچا کر درد کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں