The news is by your side.

Advertisement

اردو ادب کے میرزا ادیب کی برسی

میرزا ادیب کا شمار اردو کے ان ادیبوں میں‌ ہوتا ہے جنھوں نے نثری ادب کی متعدد اہم اور قابلِ ذکر و مقبول اصناف میں‌ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ انھوں نے ناول، افسانے، ڈراما اور خاکہ نگاری کے علاوہ سفر نامے، سوانح، تحقیقی و تنقیدی مضامین لکھے، کئی کہانیوں اور مضامین کا ترجمہ کیا اور بچوں کے لیے کہانیاں‌ بھی لکھیں۔

آج میرزا ادیب کی برسی منائی جارہی ہے۔ وہ لاہور میں 31 جولائی 1999 کو انتقال کر گئے تھے۔

میرزا ادیب کا اصل نام دلاور علی تھا۔ 4 اپریل 1914 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج، لاہور سے گریجویشن کیا، ادبی سفر کی ابتدا شاعری سے کی مگر جلد ہی نثر کی طرف مائل ہو گئے۔

میرزا ادیب کی تصانیف میں صحرا نورد کے خطوط کو بہت شہرت ملی جب کہ صحرا نورد کے رومان، دیواریں، جنگل، کمبل، متاعِ دل، کرنوں سے بندھے ہاتھ، آنسو اور ستارے، ناخن کا قرض اور ان کی خودنوشت سوانح بھی اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔

حکومتِ پاکستان نے 1981 میں انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔ انھوں نے رائٹرز گلڈ اور گریجویٹ فلم ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں