The news is by your side.

Advertisement

میشا شفیع عدالتی طلبی پر نہیں آئیں، گانا ریکارڈ کرانے پاکستان پہنچ گئیں

لاہور : پاکستانی گلوکار و اداکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر گزشتہ دوسال سے عدالت میں سماعت جاری ہے تاہم میشا شفیع طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔

سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ پچھلے دنوں کینیڈا سے پاکستان آئیں اور عدالت میں پیش ہونے کے بجائے لاہور اور کراچی کے دو میوزک اسٹوڈیوز میں گانے ریکارڈ کرواکر دو رز قبل واپس کینیڈا چلی روانہ ہوگئیں۔

یاد رہے کہ لاہور کی سیشن عدالت نے علی ظفر ہتک کیس میں27 اکتوبر کو اداکارہ کو گواہان سمیت کو طلب کیا تھا۔اس کے بعد سات نومبر14 نومبر16نومبر 23اور 30نومبر کو بھی ان کو سمن جاری کیے گئے مگر میشا شفیع  پیش نہ ہوئیں۔ گلوکارہ نے  پچھلے سال دسمبر میں عدالت میں آخری بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

گزشتہ ایک سال مقدمے کی سماعت ان کی غیرحاضری کی وجہ سے التوا کا شکار ہے، میشا شفیع کے وکیل نے استدعا کی تھی کہ ان کی مؤکلہ کی گواہی کینیڈا سے موبائل فون کے ذریعے لی جائے جس پر عدالت اس کو مسترد کردیا۔

دوسری جانب گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع کے سفری اخراجات برداشت کرنے کا بھی اعلان کیا تھا تاکہ میشا کی گواہی مکمل ہو اور یہ کیس جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچے۔

یہ مقدمہ  ستمبر کے آخر میں علی ظفر کی شکایت پر ایف آئی اے نے میشا شفیع اور اداکارہ عفت عمر سمیت 9 شخصیات کے خلاف سائبر کرائم کے تحت دائر کیا گیا تھا۔

تمام شخصیات پر الزام ہے کہ انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف الزامات لگا کر ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا اور ابھی اسی سائبر کرائم کا فیصلہ ہونا بھی باقی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں