متنازعہ فیصلوں کے لیے مشہور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر -
The news is by your side.

Advertisement

متنازعہ فیصلوں کے لیے مشہور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر

واشنگٹن: اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کو اپنی سخت مزاجی اور متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے وہ توجہ حاصل ہے جو آج تک کسی امریکی سفیر کو نہ مل سکی، تاہم وہاں مختلف نمائندوں کی بڑی تعداد انہیں ناپسند کرتی ہے۔

امریکی ریاست جنوبی کیرولینا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہونے والی نکی ہیلی ایک سکھ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا خاندان اس قصبے میں واحد سکھ خاندان تھا۔

ان کا اصل نام نمرتا رندھاوا تھا، پیار سے انہیں نکی کہہ کر بلایا جاتا۔ شادی کے بعد انہوں نے سکھ مذہب چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلی اور اپنے شوہر کے نام کے ساتھ اپنا نام مستقلاً نکی ہیلی رکھ لیا۔

نکی نے ووٹر رجسٹریشن کارڈ میں بھی خود کو سفید فام کی حیثیت سے درج کیا ہے۔

نکی ہیلی 38 سال کی عمر میں کیرولینا کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔ وہ ریاست لوزیانا کے گورنر بوبی جندال کے بعد کسی بھی امریکی ریاست کی دوسری بھارتی نژاد گورنر تھیں۔

نکی اپنی سخت مزاجی اور سخت بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ایک بار ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’میں ہیلز اس لیے نہیں پہنتی کیوں کہ یہ فیشن ہے، بلکہ اس لیے پہنتی ہوں کہ جہاں کہیں بھی کچھ غلط دیکھوں تو اسے ٹھوکر مار کر ہٹا سکوں‘۔

سنہ 2015 میں جب جنوبی کیرولینا میں واقع سیاہ فاموں کے ایک چرچ پر ایک سفید فام شخص نے حملہ کر کے 9 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تب نکی نے فیصلہ کیا کہ ریاستی دارالحکومت میں فیڈریشن کا جھنڈا نہیں لہرایا جائے گا۔

بہت سے افراد کے خیال میں یہ جھنڈا سفید فاموں کی بالا دستی کو ظاہر کرتا ہے۔

ان کے اس فیصلے سے انہیں بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل ہوئی اور دنیا بھر کے لوگوں نے انہیں سراہا۔

وہ کہتی ہیں، ’میں اس حقیقت کی مخالفت کرتی ہوں کہ لوگوں کو تقسیم کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ مذہب کا استعمال ہے‘۔

نکی نے صدارتی انتخاب کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت نہیں کی تھی پھر بھی ٹرمپ نے انہیں اقوام متحدہ میں بطور سفیر منتخب کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف کئی فیصلے کیے تاہم زیادہ تر پالیسیوں کی حمایت کی۔ نکی ہیلی ری پبلکن پارٹی میں بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ’میرے والدین نے مجھے سکھایا کہ آپ کی انفرادیت ہی آپ کو خاص بناتی ہے۔ میں اپنی زندگی میں آنے والے چیلنجز کی شکر گزار ہوں جو دراصل میرے لیے رحمت ثابت ہوئے‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں